کراچی(اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعتِ اسلامی و سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے منصورہ میں سیاسی انتخابی کمیٹی کےکہا ہے کہ پاک فوج میں تقرریوں کے باوجود سیاسی استحکام حاصل نہیں ہورہا۔ قومی اسمبلی سے استعفوں کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین نے دیگر اسمبلیوں سے باہر آنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ سیاسی بحران اور زیادہ گھمبیر ہورہا ہے۔ سیاسی، انتظامی، اقتصادی بحرانوں کا علاج آئین کے دائرے میں قبل از وقت انتخابات ہوسکتے ہیں لیکن حکومت اور اپوزیشن سیاسی مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوں تو صرف دباؤ پر مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ پے درپے اُلجھاؤ بڑھتا ہے۔ انہوں نے جاری اپنے بیان میں مزید کہاکہ انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن آف پاکستان پر اعتماد کے بغیر انتخابات جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے لیے زیرِ قاتل بن جائیں گے۔ آئینی مدت کے مطابق بھی عام انتخابات کے لیے 280 دن باقی ہیں۔ کوئی بہت زور بھی ڈال لے تو چند دِن ہی کم ہوسکیں گے۔ عمران خان صاحب تسلیم کرلیں کہ وہ اپنی انتہائی مقبولیت کے باوجود اپنے مطالبات کی منزل حاصل نہیں کرسکے۔ عام انتخابات کو یقینی بنانے اور بااعتماد عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام قومی، سیاسی، پارلیمانی جماعتوں میں نیشنل ڈائیلاگ ضروری ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نظریہ پاکستان اور اسلامی معاشی نظام کی باتیں تو ہمیشہ کرتی ہے لیکن اقدامات کے لیے اِن کا حکومتی رویہ انتہائی مایوس کن ہوتا ہے۔ سُودی نظام کے خاتمہ کے لیے عملاً پیش رفت کی بجائے سُود اور قرضوں کی جکڑبندی مزید خوفناک بنائی جارہی ہے۔ سیاسی بحران، حکومتی بے بنیاد متضاد اعلانات اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ سے جنگ بند کرنے کے جھوٹۓ اعلانات ملکی اقتصادی نظام کے لیے مزید تباہی اور اللہ کی ناراضگی کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت کی پوری توجہ خطرناک شرائط پر قرضوں کا حصول اور سُود کی شرح میں اضافہ کرکے سُودی نظام کو ہی مسلط رکھنے پر مرکوز ہے۔ خودانحصاری، خودداری، ایمانی جرات و عزم سے اقدامات ہی اقتصادی بحران ختم کرسکیں گے۔
لیاقت بلوچ نے سینئر بزنس رہنما ایس ایم منیر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔ مرحوم چیمبرز اور فیڈریشن، تجارتی محاذ پر بڑے سرگرم رہنما تھے۔