کراچی(نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور عالمی بینک کے اعلیٰ سطح وفد نے ریجنل ڈائریکٹر جان روم (John Roome) کی قیادت میں سیلاب کی ہنگامی کاموں کیلئے 163.8 ملین ڈالر کے فنڈز کے دوبارہ استعمال کرنے انکی پیش رفت کا جائزہ لینے پر تبادلہ خیال کیا ۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور متعلقہ سیکرٹریز نے شرکت کی۔ عالمی بینک کے وفد کے ارکان میں عبد الرزاق خلیل، کامران اکبر، ذیشان کریم، مسٹر فرانکوئس اونیموس، مسٹر اولیور اور دیگر شامل ہیں۔ کنٹری ڈائریکٹر ناجے بنہاسین نے اپنی ٹیم کے ارکان کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ عالمی بینک نے سیلاب سے متعلق ہنگامی کاموں کیلئے 22 ملین ڈالر کی رقم دوبارہ خرچ کرنے کیلئے پیش کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے دورہ پر آئے شرکاء اور آن لائن وفد کو بتایا کہ 110000 خیمے، 300000 مچھر دانیاں، پانی صاف کرنے والے پمپ اور دیگر سامان منگویا گیا ہےجنکی ترسیل جاری ہے اور نومبر 2022 تک مکمل ہو جائے گی جبکہ محکمہ پی اینڈ ڈی نے عالمی بینک کی متعلقہ ٹیم کے ساتھ تفصیلات شیئر کی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ CLICK پراجیکٹ سے 27 ملین ڈالر دوبارہ استعمال کیے گئے جس میں 500 سڑکوں میں سے 268 سڑکوں کی مرمت کیلئے استعمال ہونگے جس کی نشاندہی CLICK کے ذریعے فنانسنگ کیلئے کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنگامی کاموں کیلئے تیار کیے گئے ماحولیات اور سماجی انتظام کے منصوبے کا عالمی بینک کی ٹیم نے جائزہ لیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بحالی/مرمت کے کاموں کے 18 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں جوعملدرآمد کے مراحل ہیں جبکہ باقی 9 ملین ڈالر بحالی کے کاموں کیلئے ڈیزائن تیار کیا جا رہا ہے۔ SIAPEP پراجیکٹ سے دوبارہ 7.9 ملین ڈالر کی پیشرفت کا اشتراک کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سیلاب سے متعلق امدادی سامان منگوایا گیا ہے۔ شہر میں واٹر بورڈ کی زیرآب لائنوں کی بحالی کیلئے KWSSIP سے 25 ملین ڈالر کی رقم کو مختلف پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے جس پر عالمی بینک سے بھی بات ہوچکی ہے۔ عالمی بینک کے دورے پر آئے وفد نے پیش رفت کا جائزہ لیا اور کہا کہ فنڈز سندھ حکومت کو سابقہ بنیادوں پر ادا کیے جائیں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہر میں سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور کام جاری ہے۔