سکھر (نمائندہ خصوصی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور پنجاب حکومت کے دریائے سندھ پر چھ نہریں تعمیر کرنے کے منصوبے کی سخت مخالفت کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس منصوبے کو یکطرفہ اقدام قرار دیا۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی طرف سے منصوبے کی سخت مخالفت کو اجاگر کیا اور زور دیا کہ یہ پنجاب حکومت کا یکطرفہ اقدام ہے جو آئینی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان غیر قانونی نہروں کی تعمیر کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی صوبہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں تمام صوبوں کے اتفاق رائے کے بغیر پانی کا منصوبہ خود سے شروع نہیں کر سکتا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے 17 جنوری 2024 کو پانی کی دستیابی سے متعلق ایک گمراہ کن سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرٹیفکیٹ غلط اور غیر ذمہ دارانہ تھا، پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے اسے چیلنج کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے موجودہ پانی کی قلت کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 11 ایم اے ایف پانی کی کمی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سنہ 1999ء تا 2024ء کے دوران صرف 4 سال پانی سمندر تک پہنچا۔ ایسے حالات میں نئی نہریں بنانے کا جواز کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ نگران حکومت نے بھی اس نہری منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور صدر آصف علی زرداری نے اس سے متعلق کسی بھی سمری کی منظوری نہیں دی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ حکومت نے جون میں سی سی آئی میں اس منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ امن و امان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے عوام کو یقین دلایا کہ شکارپور اور کشمور کے کچے کے علاقوں میں پولیس آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو صوبے کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی ہے اور ہم ہر چیلنج میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ سید مراد علی شاہ نے پیپلز پارٹی کی صوبے سے وابستگی کا اعادہ کیا۔