اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی میں 1 ارب 24:کرووڑروپے کی خرد برد کے انکشاف پرخ بے ضابطگیوں سے متعلق اطلاعات سامنے آنے پر اے پی پی انتظامیہ نے 1 ارب 24 کڑوڑ روپے خردبرد کی تحقیقات کیلئے جون 2024 میں محکمانہ انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دی تھی۔محکمانہ انکوائری کے دوران اے پی پی پی کے دو اکاؤنٹس
Employees related expanse (ERE) اور (PF) Provident fundاکاؤنٹس سے 124 کڑوڑ روپے اے پی پی کے چند ملازمین کے اکاؤنٹس میں منتقلی کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آئے تھےمحکمانہ انکوائری میں سال 2001 سے 2023 کے درمیانی عرصے کے اہم مالیاتی دستاویزات غائب پائے گئے تھےمالیاتی دستاویزات میں کیش بکس،سیلری/پینشن کریڈیٹ شیٹس اور مذکورہ عرصے کا ماسٹر لیجر بھی شامل تھاکرپٹ ٹولے نے جان بوجھ کر مالیاتی ریکارڈ انتظامیہ کی دسترس سے باہر رکھا اور سرکاری نیوز ایجنسی کے صرف ان دو اکاؤنٹس سے 124 کروڑ روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیئے۔زرائع کے مطابق بنک عملے کی ملی بھگت سے کرپٹ گروہ کے ایک رکن نے اے پی پی سرکاری اکاؤنٹ سے 4.7 ملین روپے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کیئے جبکہ دوسرے ملازم نے اے پی پی ERE اکاونٹ سے 15.4 ملین روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کیئے۔انکوائری رپورٹ میںکئے گئے انکشاف کے مطابق کرپٹ ٹولے نے اے پی پی کے پراویڈنٹ فنڈ(PF) کو بھی نہیں بخشا اور 16 افراد نے بنک عملے کی ملی بھگت سے 910.4 ملین روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیئے گئے ۔خردبرد میں سابق اعلیٰ عہدیداران،منیجرز،کلریکل سٹاف اور بنک عملہ ملوث پائے گئے جن کے خلاف مزید کارروائی اور لوٹی گئی رقوم برآمدگی کیلئے ایف آئی اے سے رابطہ کیا ۔اے پی پی پی زرائع کے مطابقکرپٹ ملازمین سے لوٹی گئی رقوم برآمدگی کیلئے نیب سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے ملازمین پر محکمانہ انکوائری میں جرم ثابت ہو چکا ہے۔اے پی پی زرائع کے مطابقمحکمانہ انکوائری میں ان ملازمین پر بینک عملے کی ملی بھگت سے اے پی پی کے اکاؤنٹس سے ایک ارب 24 کڑوڑ روپے زاتی اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے ایم ڈی اے پی پی کو ادارے کی مالیاتی خودمختاری بحال کرنے اور کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیئے تھےاے پی پی کی محکمانہ انکوائری رپورٹ سامنے آنے پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے ایم ڈی اے پی پی محمد عاصم کچھی کو مستقبل کیلئے اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے اور کرپٹ عناصر کے کیسز متعلقہ اداروں کو بھجوانے کی ہدایات جاری کی تھیمحکمانہ انکوائری میں لوٹ مار ثابت ہونے اور تمام شواہد فراہم کرنے کے باوجود بااثر کرپٹ اے پی پی ملازمین ایف آئی اے انکوائری پر اثرانداز ہو رہے تھےعدالت نے اندراج ایف آئی آر پر مزید کارروائی کیلئے فریقین کو 7 اپریل کو طلب کر لیا ہے