لاڑکانہ/میروخان( نمائندہ خصوصی )پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کی قیادت میں دریائے سندھ پر 6 کینالوں کے منصوبے کے خلاف میروخان میں بھٹو پیٹرول پمپ سے عرضی بھٹو چوک تک احتجاجی مشعل بردار ریلی نکالی گئی۔ جس میں ضلع قمبر کے صدر قمر الدین گوپانگ سمیت دیگر رہنماؤن و سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔ مشعل بردار ریلی میں شامل سینکڑوں پیپلز پارٹی کے کارکنان کی سندھو دریاء پر کینال نامنظور کی نعرے بازی کی۔ مشعل بردار ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کے 6 کینالوں کا منصوبہ سندھ اور سندھ کے لوگوں کے لئے موت کا منصوبہ اور سندھ کے وجود کے خلاف سازش ہے۔ پانی زندگی ہے اور پیپلز پارٹی کسی کو بھی سندھ کے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کے 6 کینالوں کا منصوبہ غیر آئینی اور غیرقانونی ہے اس لئے وفاقی حکومت کینال منصوبے سے دستبرداری کا اعلان کرے اگر مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کینالوں کے لئے بضد ہے تو سندھ بھی کینالوں کے خلاف ضد پر ایک ہے۔ نثار کھوڑو نے کہا کے کوٹڑی سے نیچے پانی نہ ہونے کہ وجہ سے سندھ کی 40 لاکھ ایکڑ سے زائد ایراضی بنجر بن گئی ہے۔ سندھ کے دریاء پانی کی سخت کمی کی وجہ سے کربلا کا منظر پیش کر رہے ہیں اور ارسا کیجانب سے نگران حکومت میں پانی کی اضافی موجودگی کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنا غیر آئینی اور سندھ دشمنی عمل ہے اس لئے ارسا کی از سر نو تشکیل کی جائے اور ارسا چیئرمین سمیت ارسا میں وفاقی رکن سندھ سے لیا جائے۔ انہوں نے کہا کے سندھ نے ارسا کے یکطرفہ پانی موجودگی کے فیصلے کو سی سی آئی میں چیلینج کردیا ہے اس لئے سی سی آئی کا اجلاس بلا کر سندھ کے آئینی اعتراضات سن کر متنازعہ کینال منصوبہ ختم کیا جائے۔ نثار کھوڑو نے کہا کے پیپلز پارٹی دریائے سندھ پر کوئی کینال نہیں بننے دے گی نہ ہی کسی کو پانی پر ڈاکہ ڈالنے دینگے کیونکے پیپلز پارٹی نے ماضی میں بھی تھل کینال اور کالاباغ ڈیم کے خلاف تحریک چلائی اب بھی 6 کینالوں کے خلاف تحریک چلائینگے۔انہوں نے کہا کے پورے سندھ میں کینالوں کے خلاف مشعل بردار ریلیاں نکال کر عوام نے بتادیا ہے کے سندھ کو 6 کینالوں کا منصوبہ کسی صورت قبول نہیں ہے۔پانی کے مسئلے پر مشترکہ جدوجھد اور ایک آواز بننے کی ضرورت ہے جس طرح مشترکہ جدوجھد کے ذریعے کالاباغ ڈیم منصوبے کو مسترد کرایا تھا اسی طرح 6 کینال منصوبے کو بھی مسترد کرائینگے۔ انہوں نے کہا کے پیپلز پارٹی کو روڈ راستے بھی دیکھے ہوئے ہیں اور تحریکیں بھی چلانی آتی ہیں اس لئے سندھ دشمن منصوبوں سے باز آجاؤ۔