سرینگر(نمائندہ خصوصی):غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے شب قدر اورجمعة الوواع کے بعد جامع مسجد اورعیدگاہ سرینگر میں نماز عید پر پابندی کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو عید گاہ اور جامع مسجد میں نماز عید ادا کرنے کے بنیادی حق سے ایک بار پھر محروم کرنے کے قابض حکام کے فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے اورنماز عید کی ادائیگی سے روک دیا گیا ہے۔میرواعظ نے کہاکہ1990کے عشرے میں بھی جب عسکریت پسندی اپنے عروج پر تھی، عید کی نماز عیدگاہ میں ادا کی جاتی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا اب جب بھارتی حکام یہ بلندو بانگ دعوے کررہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں حالات معمول پر آگئے ہیں تویہاں کے مسلمانوں کو ان کے مذہبی مقامات پر جانے اور عبادات کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟انہوں نے کہاکہ ہم بھارتی حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جامع مسجد ہو یا عیدگاہ ہو ، یہ عوام کے مرکز ہے ۔یہ یہاں کی شناخت ہیں ، یہ ہماری اسلامی تہذیب اورتمدن کا ایک حصہ ہیں۔ ان پر طاقت کے بل پر پابندیاں اوربندشیں لگانا اورعوام کو ان اجتماعات میں شرکت سے روکنا نہ صرف ہمارے مذہبی حقوق بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم بھارت کی سول سوسائٹی اورذی شعور لوگوں سے بھی اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ یہ دیکھیں کہ کس طرح مقبوضہ جموں وکشمیر میں طاقت کے بل پرہمارے بنیادی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں۔