میری زندگی کا ایک یادگار ترین دن، جب تین سے چار دہائیوں پر محیط آپ سب کی بے پایاں محبت، عزت، احترام اور پذیرائی کو ایک اعزاز کی صورت دے کر مجھے نوازا گیا۔
میں نے یہاں تک پہنچنے میں ایک طویل سفر طے کیا ہے اور یہ سفر آپ سب کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔ یہ سفر آسان نہیں تھا۔ ایک عورت کے لیے ذہنی آزادی اور اس کا برملا اظہار ہمارے معاشرے میں ہمیشہ ایک آزمائش رہا ہے۔ کچھ مہربانوں نے ابتدا سے ہی اس راہ کو مزید دشوار بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، مگر اللّٰہ کا فضل، میرے والدین کی تعلیم و تربیت اور دعائیں، میرے شوہر کا اعتماد اور تعاون، بچوں کی محبت اور آپ سب کی عزت و پذیرائی میری طاقت بنی رہیں اور میرے حوصلے کو جلا بخشتی رہیں۔
میں نے ہمیشہ اخلاص، محنت اور سچائی کے ساتھ قلم اٹھایا اور صلے میں آپ سب کی بےلوث محبتیں، پذیرائی اور عزت پائی۔ آپ میرے غم اور خوشی کو اپنا سمجھتے ہیں اور میری تحریریں اس امر کی گواہ ہیں کہ میں بھی آپ لوگوں کے غم میں لہو روتی اور خوشی میں دل سے جھومتی ہوں۔
مجھے اعتراف ہے کہ میں آج جس مقام پر ہوں اس میں آپ سب کی توجہ، خلوص اور دعاؤں کا بڑا حصہ ہے۔ آپ نے ابتدا سے میری شاعری اور نثر دونوں کو نہایت توجہ سے پڑھا، سنا اور سراہا۔ دلوں میں جگہ بنائے رکھنا آسان نہیں ہوتا، مگر آپ لوگوں نے مجھے دہائیوں سے یہ جگہ مستقل دیئے رکھی۔ میرا ایمان ہے کہ یہ محض اخلاص کا معجزہ ہے۔ آپ سب میرے اپنے ہیں۔یہ اعزاز میرے لیے صرف خوشی اور فخر کا باعث نہیں، بلکہ یہ مجھے مزید ذمہ داری کا احساس بھی دلا رہا ہے۔ مگر ایک اطمینان یہ ضرور ہے کہ آپ کی محبت، دعا اور تعاون ہمیشہ میرے ہم قدم رہے گا۔
ادب میرے لیے مشغلہ نہیں، ایک مسئلہ ہے۔ مجھے نہ شہرت کی طلب ہے، نہ نمایاں ہونے کی خواہش—میں صرف لکھنا اور پڑھنا چاہتی ہوں، کہ یہی میرے لیے سانس لینے کی طرح ضروری ہے۔ جب تک زندگی ہے میرا قلم سے رشتہ استوار رہے گا اس لیے ہر لمحہ آپ سب کی دعاؤں، محبتوں اور خلوص کی طلب گار رہوں گی۔اس یادگار دن کو اپنی محبتوں، دعاؤں، مسیجز، تبصروں اور پوسٹوں سے خاص اور ناقابلِ فراموش واقعہ بنانے والے سب احباب کا شکریہ! یہ لمحات میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔
یہ اعزاز ہم سب کا ہے۔ ہم سب جو اپنے پیروں پر فخر سے سر اٹھا کر چلتے ہیں، دنیا گراتی ہے