کویٹہ(نمائندہ خصوصی) بلوچستان میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات نے تعلیمی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے صوبائی انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں تین یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہےپاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں بڑھتے ہوئے ’سکیورٹی خطرات نے تعلیمی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے صوبائی انتظامیہ نے حالیہ ہفتوں میں تین یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہےنیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران تین یونیورسٹیوں کو سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے صوبائی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ ہفتے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی دو یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا تھا، جبکہ آج بروز منگل تیسری یونیورسٹی کو بھی ورچوئل تعلیم پر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی کوئٹہ میں سکیورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے۔ شہر میں سڑکوں پر سکیورٹی فورسز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جبکہ اضافی چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں یہ اقدامات حالیہ دنوں میں علیحدگی پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد کیے گئے ہیں گزشتہ ہفتے بلوچ علیحدگی پسندوں نے تقریباً 450 مسافروں کو لے
جانے والی ایک ٹرین پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دو روزہ محاصرے کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح اتوار کو ایک گاڑی کو خودکش حملے سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ نیم فوجی اہلکار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھےاس اہلکار نے مزید کہا یہ فیصلہ مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے سکیورٹی خدشات کے باعث ورچوئل تعلیم کا نظام اپنانے کا اعلان کیا گیا ہے جو اگلے نوٹس تک جاری رہے گا انہوں نے مزید بتایا کہ کیمپس دوبارہ کھولنے کا فیصلہ عید کے بعد ہو گا جو تقریبا دو ہفتے بعد ہے۔ اس فیصلے سے ہزاروں طلبہ متاثر ہوں گے