کراچی (رپورٹ: راؤمحمد جمیل) شہر قائد میں ڈکیتی راہزنی کی وارداتوں کے ستائے مظلوم اور لاوارث شہریوں پر دیانت دار آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی فورس کا دھاوا ، شہر بھر میں ڈاکوؤں کے بعد پولیس نے بھی” عیدی مہم” کا باقاعده آغاز کردیا شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوه اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر رات بھر چیکنگ کے نام پر شہریوں سے لوٹ مار اور ہتھک آمیز سلوک کا سلسلہ جاری ہے بہتی گنگا میں غوطے لگانے کیلئے ٹریفک پولیس نے بھی ماضی کے ریکارڈ توڑ دئیے کھلے عام کمرشل اور نجی گاڑیوں کے علاوه موٹر سائیکل سواروں کو بھی نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ، مبینہ دیانت دار ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ بھی ماضی کی روایت تبدیل کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں شہر کے مختلف علاقوں میں جاری بعض مشتبه پولیس مقابلے بھی شہریوں کو تحفظ اور امن و امان کا احساس نہ دلا سکے اکثر و بیشتر پولیس مقابلوں میں ملزمان کو سیدھی ٹانگ کے نچلے حصّے میں گولی لگنے کے واقعات نے عوامی حلقوں کو حیران کرکے رکھ دیا اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کی جانب سے چیکنگ کے بہانے شہریوں سے جبری ” عیدی” وصولی کا باقاعده آغاز کردیا گیا ہے شہر قائد کے مختلف علاقوں سے روزنامه” حمایت ” کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے شہریوں کے تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کاروائی کے احکامات کو پولیس نے ماضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے آمدن کا ذریعہ بنالیا شہری ایک جانب ڈکیتی راہزنی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث سخت اضطراب کا شکار ہیں تو دوسری جانب انکے محافظ بھی انہیں ہراساں کرکے مبینہ طور پر لوٹ مار میں مصروف ہیں اطلاعات کے مطابق رات ہوتے ہی مختلف موبائلوں اور موٹر سائیکل سوار پولیس افسران اور اہلکار شہر کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر ناکہ بندی کرکے چیکنگ اور تلاشی کے بہانے شہریوں سے جبری طور پر ” عیدی” وصول کررہے ہیں اطلاعات کے مطابق شہر قائد کے مرکزی علاقے صدر میں قائم مارکیٹوں، طارق روڈ ، ایم اے جناح روڈ ، لیاقت آباد ، گلستان جوہر اور ڈیفنس اور دیگر علاقوں میں قائم شاپنگ مال اور بڑی مارکیٹوں میں پولیس کی بڑی تعداد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنی پیشه وارانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور دلیری سے سرانجام دے رہی ہے تو دوسری جانب بعض تھانوں کی پولیس موبائلیں اور موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکار عید کی خریداری اور دیگر اہم ضروریات کیلئے سرگرداں شہریوں کو
چیکنگ اور تلاشی کے بہانے روک کو ہراساں کرکے جبری وصولیوں میں مصروف نظر آتے ہیں ذرائع کے مطابق گھگھر پھاٹک سے لیکر ایرپورٹ تک نیشنل ہائی وے، لانڈھی کورنگی روڈ، ناظم آباد ، سہراب گوٹھ اور نگی ٹاؤن، لیاری اور دیگر علاقوں میں شہریوں سے جبری عیدی وصولی کی اطلاعات ہیں جبکہ اندرون سندھ سے فروٹ اور سبزیاں سبزی منڈی لانے اور منڈی سے شہر بھر میں سیلائی کرنے والی گاڑیاں پولیس کا خصوصی حدف ہیں پولیس اہلکار فروٹ اور سبزیوں کی ترسیل پر مامور گاڑیوں سے ناصرف رقم وصول کررہے ہیں بلکہ فروٹ اور سبزیاں بھی چھین لیتے ہیں ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس بھی آپریشن پولیس کی جانب سے عیدی وصولی مہم کی دوڑ میں شامل ہوگئی ہے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کے جھتے کمرشل اور نجی گاڑیوں کو روک کر کھلے عام شہریوں سے لوٹ مار میں مصروف ہیں حال ہی میں تعینات ہونے والے مبینہ دیانت دار ڈی آئی جی پیر محمد شاه بھی ٹریفک پولیس کا قبلہ درست کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں ذرائع کے مطابق شہر قائد میں ایک جانب کراچی پولیس بد نام ڈکیت گروہوں کے خلاف اور امن و امان کی بحالی کیلئے اپنی جان کی پراہ نہ کرتے ہوئے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت سرگرداں ہیں تو دوسری جانب بعض پولیس افسران اور اہلکار مبینہ لوٹ مار کو اپنی آمدن میں اضافہ اور مشتبه مقابلوں کو اپنی شہرت کا ذریعہ بھی بنا رہے ہیں اطلاعات کے مطابق جو بھی ایسا پولیس مقابله ہوتا ہے تو پولیس ظاہر کرتی ہے کہ ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی پولیس نے کمال حکمت عملی سے ناصرف خود کو ملزمان کی فائرنگ سے محفوظ رکھا بلکہ موبائل اور دیگر سرکاری گاڑیوں کو بھی ملزمان کی فائرنگ
سے بچایا بعد ازاں پولیس نے کئی فٹ فاصلے سے نشانہ لیکر ملزمان کی دائیں ٹانگ کے نچلے حصّے پر گولی ماری جسکے بعد ملزم یا ملزمان موٹر سائیکل زمین پر گرانےکے بعد خود بھی زخمی حالت میں زمین پرلیٹ جاتے ہیں اور اسلحہ بھی دو سے تین فٹ کے فاصلے پر رکھ دیتے ہیں پولیس کمال جر آت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کی ویڈیوز بناتی ہے اور گرفتار کرلیتی ہے ذرائع کے مطابق پولیس کے میرٹ ، قانون پسندی اور صلہ رحمی کا اندازه اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے که اکثر و بیشتر مقابلوں میں دائیں ٹانگ کے نچلے حصّے کو اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ مبینہ طور پر بائیں ٹانگ میں خون کی مرکزی نس متاثر ہونے سے ملزمان کی ہلاکت کا خدشہ ہوتا ہے دوسری جانب زیاده تر مقابلے نصف شب کے بعد ویران مقامات پر ہوتے ہیں تاکہ عام شہریوں کی جان و مال کو محفوظ رکھا جا سکے