کراچی (رپورٹ= مرزا افتخار بیگ )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف شاعر و صحافی علاؤالدین خانزادہ خانزادہ کا نعتیہ مجموعہ ”عشق عقیدہ“کی تقریب رونمائی حسینہ معین ہال میں کی گئی ، تقریب کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا گیا ، تقریب میں پروفیسر سحر انصاری نے صدارت کے فرائض انجام دئیے جبکہ صدر آرٹس کونسل محمداحمد شاہ،صدر پریس کلب فاضل جمیلی، پیرزادہ سلمان ، خلیل اللہ فاروقی،ایوب شیخ، عبدالجبار، خالد معین اور عثمان جامی نے اظہار خیال کیا ، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمدشاہ نے کہا کہ عشق عقیدہ یہی دنیا ہے یہی علاوالدین خانزادہ کا طرز زندگی ہے، آپ نعت یا حمد کہتے ہیں یا نہیں اگر آپ نے عشق کی سیڑھی پر قدم رکھ دیا ہے تو پھر آپ سب کہتے ہیں ،کسی بھی قوم کی ثقافت میں سب سے نمایاں چیز مذہب ہے، ہماری مذہبی رسومات ثقافت کا حصہ بن جاتیں ہیں۔ میں علاؤ الدین خانزادہ کو کتاب شائع کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نے کہا کہ خانزادہ سے ہمارا رشتہ بہت پرانا ہے ،یہ مجموعہ پورا ایک سفر ہے اس کتاب کو انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ایک نعت اوردوسرا حمد،ایک عام شاعری کی غزل میں عام پڑھنے والا آدمی اپنا اپنا محبوب دیکھتا ہے مگر نعت میں ہر آدمی نبی پاک ﷺ کو دیکھتا ہے ،جس انداز میں انہوں نے درود شریف کو نعت میں لکھا ہے ان کی یہ کتاب پڑھنے کے بعد میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لئے ایک دروازہ ہے،پروفیسرسحر انصاری نے کہا کہ علاؤالدین خانزادہ ایک سینئر صحافی ہیں۔نعت ہر مسلمان کی زندگی میں شامل ہے۔۔نعت کے آداب کو سمجھنا ایک فن ہے نعت میں بے ادبی کی گنجائش نہیں ہے۔۔عشق کا لفظ شاعری میں استعمال ہوتا رہتا ہے اس کے مختلف معنی ہوتے ہیں علاؤالدین خانزادہ نے اپنے جذبے کا اظہار اس نعتیہ معجموعے سے کیا ہے۔ معروف صحافی پیر زادہ سلمان نے کہا کہ نعت کا سفر بر صغیر سے شروع ہوتے ہوئے ہمارے خانزادہ تک آتا ہے نعت کا جو سفر ہے وہ عاجزی ،آنسوووں اور نرمی کا ہوتا ہے اللہ اور رسول سے عشق خانزادہ کے ہاں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے ،خالد معین نے کہا کہ علاؤالدین خانزادہ کے صحافتی دنیا کے کارنامے کسی سے چھپے نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ علاؤالدین خانزادہ کے ہاں مزاحیہ شاعری کے ساتھ ساتھ سنجیدہ شاعری بھی نظر آتی ہے ، ممبر گورننگ باڈی ایوب شیخ نے کہا کہ علاوالدین خانزادہ اچھے آدمی کے ساتھ ساتھ ایک اچھے صحافی ہیں،یہ لکیر کے فقیر نہیں ہیں اگر کسی طاقت ور کے خلاف لکھنا ہو تو وہ لکھنے سے گریز نہیں کرتے آج کے دور میں ہمہ جہت لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے جو مختلف پہلوں پر لکھنا جانتے ہو،میں امید کرتا ہو اگلی ان کی کتاب سندھ دریا پر ہو۔عثمان جامی نے کہا کہ اردو ادب میں اس کتاب کا آنا ایک ذخیرہ ہے، اس مجموعے میں حب رسول واضح طور پر نظر آتی ہیں، خلیل اللہ فاروقی نے کہا کہ علاؤالدین خانزادہ نے پیارے آقا کا ذکر بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ اپنے الفاظوں کے ذریعے اس کتاب میں ڈھالا ہے ۔ انہوں نے نعت کے ذریعے حضرت محمد ﷺ کی سیرت بیان کی ہے,عشق مصطفی کی وجہ سے ہمارے دلوں میں خانزادہ کے لئے محبت اور بھی بڑھ گئی ہے ، صاحب کتاب علاؤالدین خانزادہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک کرائم رپوٹر تھا مگراللہ نے مجھے یہ موقع دیا کہ میں اپنے نبی اور اپنے رب کے عشق میں کچھ لکھوں نبی سے عشق عقیدت نہیں عقیدہ ہے۔میرے لئے آج کی تقریب باعث فخر ہے میں آرٹس کونسل اور محمد احمد شاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس قدر شاندار تقریب کو منعقد کروانے میں میرا ساتھ دیا ،تقریب میں ریحانہ احسان نے علاؤالدین خانزادہ کی کتاب میں سے نعت رسول مقبول پڑھ کر سنائی جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دئیے،