کراچی(کامرس رپورٹر) نیشنل بینک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا اجلاس 28فروری 2025 کو منعقد ہوا جس میں31دسمبر، 2024 کو ختم ہونے والے سال کیلئے بینک کے پڑتال شدہ سالانہ مالی نتائج کی منظوری دی گئی۔این بی پی نے 56.7بلین روپے کے قبل ازٹیکس منافع کے ساتھ ایک اور سال مضبوط اور شاندار مالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے پنشن کیس سے متعلق فیصلہ کی تعمیل میں 68.0بلین روپے کی ادائیگیوں کے باوجود مالی کارکردگی مضبوط رہی۔مشکل آپریٹنگ ماحول کئے باوجود این بی پی نے 1089.4بلین روپے کی مجموعی مارک اپ انکم پیدا کی جس سے این بی پی پاکستان میں سب سے زیادہ آمدن پیدا کرنے والے بینکوں میں شامل ہوگیا۔خالص انٹریسٹ انکم سالانہ بنیادوں پر 1.3فیصد اضافہ سے 170.9بلین روپے رہی جو 2.37فیصد کے نیٹ سپریڈ کو ظاہر کرتا ہے۔ بینک کی نان مارک اپ/نان انٹریسٹ انکم بھی 61.1فیصد اضافہ کے بعد 65.4بلین روپے رہی جو بینک کے آمدن کے متنوع ذرائع کا ثبوت ہے۔بینک کے آپریٹنگ اخراجات 119.8بلین روپے رہے جو سال بہ سال کی بنیاد پر 17فیصد اضافہ ظاہرکرتے ہیں۔بینک کا قبل از ٹیکس منافع 56.7بلین روپے جبکہ بعد ازٹیکس منافع 26.9بلین روپے رہا۔بینک نے 2017سے اپنے تمام منافع کو کیپٹل ایڈوکیسی کو محفوظ کرنے کیلئے برقراررکھا اور ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق مالی صلاحٰت اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنایا۔یہ محتاط حکمت عملی بینک کے کیپٹل بیس کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوئی ہے جس سے اسے زیر التوا قانونی چارہ جوئی کے اثرات کو جذب کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے۔بہتر مالی حالت اور مضبوط بیلنس شیٹ کے تناظر میں بورڈ نے 31دسمبر،2024کو ختم ہونے والے سال کیلئے 8روپے فی حصص کے حتمی نقد منافع منقسمہ کی سفارش کی ہے جو 76ویں سالانہ اجلاس عام میں حصص یافتگان کی منظوری سے مشروط ہے۔ چونکہ نیشنل بینک، پاکستان کے مالیاتی شعبہ میں نظام کے لحاظ سے ایک اہم بینک ہے اس لئے یہ ڈیویڈنڈ صرف منافع کی تقسیم نہیں بلکہ حصص یافتگان کو پائیدار قدر فراہم کرنے اور مضبوط کیپٹل ایڈوکیسی کو برقراررکھنے کے بینک کے عزم کا عکاس ہے۔اسٹینڈرڈ اینڈ پوور نے حال ہی میں این بی پی کو 2024میں ایشیا پیسفک لینڈرز کے مابین 10بہترین کارکردگی کے حامل سٹاکس میں شامل کیا ہے۔سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے ساتھ بینک کا مارکیٹ سرمایہ بڑھ کر تقریباً 176بلین روپے ہوگیا جو 28فروری2024سے 170فیصد کی شاندار نمو کو ظاہر کرتا ہے۔سال 2024کے دوران آئی ایف آر ایس 9کا نفاذ پاکستان میں بینکوں کیلئے ایک بڑی تبدیلی تھی۔ این بی پی نے ایس بی پی ریگولیشنز کی تعمیل کو یقینی بناتے ہوئے کامیابی کے ساتھ آئی ایف آر ایس 9کو نافذ کیا۔ اوپنگ ایکویٹی پر 12.0بلین (ٹیکس کا خالص) کے نمایاں اثرات کے باوجود بینک نے اپنے مالیاتی استحکام کے اشاریوں کو مضبوط کیا۔ بینک کے کل اہل سرمایہ 27.4فیصد اضافہ کے ساتھ 479.8 بلین روپے رہا جبکہ کامن ایکویٹی ٹیئر1( سی ای ٹی 1) اور کل کیپٹل ایڈوکیسی ریشو بلترتیب 20.51فیصد اور 27.80فیصد رہا۔بینک کا لیوریج ریشو 3.88فیصد رہا، لیکویڈیٹی کوریج ریشو اور نیٹ سٹیبل فنڈنگ ریشو بہتر ہو بالتریب 206 فیصد ( 2023میں 176فیصد) اور 174فیصد ( 2023میں 159فیصد) ریکارڈ کیا گیا۔بیلنس شیٹ کے حوالے سے مجموعی قرضہ جات اور ایڈوانسز کی مد میں رقم 1.672بلین روپے رہے جو سالانہ بنیادوں پر 2.5فیصد یا 41.1بلین روپے اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ ایڈوانس اور ڈیپازٹ کا تناسب 43.3فیصد رہا۔بینک کی سرمایہ کاری (اصل لاگت پر) 4,475.4 بلین روپے رہی جبکہ بینک کی بک ویلیو 4,612.3 بلین روپے تھی۔ بینک نے 225.8بلین روپے کے کریڈیٹ لاس الائونسز کو برقرار رکھا جس کا نتیجہ 83.8فیصد کے بلند نان پرفارمنگ لون ( سٹیج3) کوریج ریشو کی صورت میں نکلا۔ سال بہ سال کی بنیاد پر 19.4فیصد بڑھوتری کے ساتھ خالص اثاثے 457.3بلین تک پہنچ گئے جس سے بینک کی فی حصص بک ویلیو 215روپے رہی۔ بینک کے کل ڈیپازٹس 3,865.6بلین روپے رہے جن میں 94.2فیصد مستحکم صارفین کے ہیں۔بینک کے کرنٹ ڈیپازٹ کل ڈیپازٹس کے 50.4فیصد رہے۔ بینک کا کرنٹ اور سیونگ اکائونٹ ریشو 79.5فیصد کی بلند سطح پررہا۔ این بی پی مالی سال 2023اور مالی سال 2024میں ایس بی پی کی درجہ بندی کے مطابق ملک میں بڑے بینکوں میں زرعی قرضہ فراہم کرنے والا سرفہرست بینک کے طورپر ابھرا۔سال 2024ے دوران بینک کی طرف سے ایس ایم ای فنانسنگ بڑھ کر 99.0بلین روپے ہوگئی جو سالانہ بنیادوں پر 12فیصد نمو کو ظاہر کرتا ہے۔بینک اسٹریٹجک فیصلہ سازی کے اپنے فریم ورک میں ماحولیاتی، سماجی اور گورننس ( ای ایس جی ) کو شامل کرکے مضبوط انوائرمینٹل اینڈ سوشل مینجمنٹ سسٹم قائم کرنے کیلئے بھرپور انداز میں کام کررہا ہے۔ سال 2024کے دوران بینک نے سی ایس آر اقدامات میں 150ملین روپے کی سرمایہ کاری جبکہ 30.1بلین روپے کی گرین فنانسنگ سہولت فراہم کی۔این بی پی 100سے زائد اسلامک بینکنگ ونڈوز شامل کرکے 2024میں اسلامک بینکنگ کے اپنے نیٹ ورک کو توسیع دی جن کی تعداد251ہوگئی ہے۔ اسلامک بینکنگ بینک کے اندر تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ این بی پی اعتماد کے کل اثاثے 2024میں بڑھ کر 333.4بلین روپے ہوگئے جو 2023کے اختتام پر 140.2بلین روپے سے زیادہ ہیں اور سالانہ بنیادوں پر 137.9فیصد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔۔ این بی پی اعتماد ایڈوانس سیلری کا آغاز جو بینک کے فلیگ شپ ریٹیل لینڈنگ پروڈکٹ کا اسلامک متبادل ہے، نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔بینک شرعی اصولوں کے مطابق متبادل حل متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ایک موثر اور آسان منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے اور اسلامی بینکنگ میں اپنی قائدانہ پوزیشن کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔وفاقی شرعی عدالت کی ہدایات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 2027 تک مکمل شرعی اصولوں کے مطابق بینکاری میں منتقلی کے مینڈیٹ کے مطابق این بی پی اپنی اسلامی بینکاری میں تبدیلی کے عمل کو تیز کر رہا ہے۔سال 2025 میں مزید 100 اسلامی بینکاری ونڈوز قائم کی جائیں گی اور 100 سے زائد روایتی شاخوں کو اسلامی بینکاری میں تبدیل کیا جائے گا۔بینک کی مالی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے این بی پی کے صدر اور سی ای او جناب رحمت علی حسنی نے کہا کہ این بی پی کردار روایتی بینکاری خدمات سے آگے نکل چکا ہے ، بینک معاشی ترقی اور مالی خوشحالی میں ایک شراکت دار ہے جو افراد اور کاروباری اداروں خصوصا ایس ایم سی ، کمرشل اور دیہی شعبوں کی معاونت کرتا ہے۔ذمہ داری کا یہ گہرا احساس بینک کے جامع مشن اور” ایک عزم اور ایک پہچان۔ نیشنل بینک اور پاکستان” کے نعرے کیلئے عزم کو واضح کرتا ہے۔