کراچی۔ (نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نےصوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو کراچی کا دورہ کیا جہاں صوبائی ای او سی کے حکام نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا۔صوبائی کوآرڈینیٹر ارشاد علی سوڈھر نے وزیر صحت کو پولیو کی موجودہ صورتحال،جاری ویکسینیشن مہمات اور درپیش چیلنجز پر بھی بریفنگ دی.وفاقی وزیر صحت نے ویکسین سے انکاری خاندانوں کے مسئلے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔وزیر صحت نے پولیو کے خاتمے کی قومی مہم میں فرنٹ لائن ورکرز اور ضلعی انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے پولیو کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت بھی کی۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ قومی ترجیح ہے،پولیو فری پاکستان کے لیے مزید جدید اور مربوط حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔انہوں نے اس سال کے 6 میں سے 4 پولیو کیسز سندھ سے ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ میں 43,000 والدین ویکسینیشن سے انکاری ہیں جن میں سے تقریبا 42,000 کراچی سے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپریل کی قومی انسداد پولیو مہم میں بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلایںانہوں نے کہا کہ والدین کی مدد سے ملک کو پولیو کی مرض سے پاک کرنا ہے۔وفاقی وزیر سید مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی کے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی قابل تشویش ہے،پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کمیونٹی انگیجمنٹ اور ویکسینیشن مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے۔سندھ کے پولیو کوارڈینیٹر ارشاد علی نے کہا کہ سندھ سے پولیو کے خاتمے کیلیے موثر اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں،کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جس سے کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔