لاہور(نمائندہ خصوصی خصوصی ; محمد قیصر چوہان): بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جوکوئلے ، کیس ، پٹرولیم مصنوعات ، سونے ، تانبے ، قیمتی پتھ سمیت دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔علاوہ ازیں پاکستان کی ترقی وخوشحالی کے سب سے بڑے منصوبے اور چین کو معاشی طور پر سپر پاور بنانے کے اہم ترین پراجیکٹس میں سے ایک پاک چین اقتصادی راہدری (سی پیک)کا مرکز بھی ہے۔اسی لیے بلوچستان کافی عرصے سے دہشت گروں کے نشانے پر ہے۔دہشت گردی کے عالمی چمپئن امریکا کی سر پرستی میںبھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی بھر پور معاونت سے بلوچستان میں علیحدگی پسند اورمذہبی انتہا پسندوں تنظیمیں، بلوچ راجی اجوئی سانگڑ (براس) نامی چار عسکری تنظیموں پر مشتمل اتحاد ، افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس ،داعش، اسلامک خراساں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر چھوٹی آرگنائزیشنز کے ساتھ مل کر پاکستان کی اقتصادی ترقی و خوشحالی کیلئے ایک بڑے گیم چینجر منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو نقصان پہنچا نے میں مصروف ہیں۔بلوچستان میں سن 2000 سے لے کر 2024 تک دہشت گردی کے ساڑھے تین ہزار کے قریب واقعات ہو چکے ہیں، جن میں دس ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔یہ اموات علیحدگی پسندوں کے ساتھ ساتھ طالبان اور فرقہ وارانہ گروہوں کی کارروائیوں کا بھی نتیجہ ہیں۔بلوچستان میں آٹھ عسکری گروہ برسر پیکار ہیں لیکن بی ایل اے اور بی ایل ایف سب سے بڑے گروہ کے طور پر موجود ہیں۔کوئی بھی شدت پسند گروپ صرف بیرونی سپورٹ پر نہیں چل سکتا اسے اندر سے بھی سپورٹ چاہیے ہوتی ہے اندر کی سپورٹ سے مراد ریوینیو جنریٹ کرنا ہے۔ یہ کالعدم تنظیمیں اسمگلنگ یا کسی بھی قسم کی غیر قانونی تجارت کے ذریعے ریونیو پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تاوان اور اغوا کے ذریعے بھی پیسے حاصل کرتے ہیں،پھر بیرونی طاقت بھی انہیں سپورٹ کرتی ہے۔
بلوچستان لبریشن آرمی:کالعدم بلوچ علیحدگی پسند گروہ بی ایل اے پاکستان، ایران اور افغانستان کے بلوچ علاقوں پر مشتمل ایک الگ ریاست کے لیے سرگرم ہے۔کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا انٹیلی جنس ونگ "زراب” ایک منظم اور مربوط انٹیلی جنس ونگ ہے جو سینکڑوں پیشہ ور افراد، محققین، مخبروں، آئی ٹی ماہرین، ڈیٹا تجزیہ کاروں اور تفتیش کاروں پر مشتمل ہے۔ زراب کے خفیہ سیل قائم کیے گئے ہیں۔ زراب کی برسوں کی خاموشی، روزانہ کی محنت کے ساتھ مل کر انہیں کل کی طرح مہلک حملے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کے دو دھڑے ہیں، ایک کی قیادت حرب یار مری جب کہ دوسرے کی بشیر زیب کے پاس ہے۔بشیر زیب گروہ بلوچ راجی اجوئی سانگڑ (براس) نامی چار عسکری تنظیموں پر مشتمل اتحاد کا بھی حصہ ہے۔ بشیر زیب بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کے بھی سربراہ ہیں، جسے اسلم بلوچ نے منظم کیا تھا۔حمال بلوچ، بشیر زیب کے پیش رو کے طور پر متحرک ہیں۔ اس گروہ کے دوسرے اہم کمانڈروں میں نور بخش مینگل، رحیم گل اور آغا شیر دل شامل ہیں۔بزدار خان لاجسٹک یونٹ کے سربراہ ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کے تین ذیلی یونٹ ہیں۔ ایک آپریشنل، دوسرا لاجسٹک اور تیسرا انٹیلی جنس۔جیوند بلوچ تنظیم کے ترجمان ہیں، بی ایل اے کی زیادہ تر کارروائیوں کا محور بلوچ آبادی کے علاقے ہیں لیکن یہ
گروہ کراچی کے کچھ علاقوں میں بھی سرگرم ہے۔بی ایل اے مری گروپ اسفال گئی، مستونگ کے اضلاع کے ساتھ ساتھ مچھ، ہرنائی، نصیر آباد، جعفر آباد، لورا لائی، کوئٹہ اور آواران کے اضلاع میں سرگرم ہے۔دوسری جانب بی ایل اے زیب گروپ بلوچستان کی ساحلی پٹی اور مشرقی بلوچستان پر اپنی نظریں گاڑے ہوئے ہے۔گذشتہ دو سالوں کے دوران بی ایل اے کی کارروائیوں کا دائرہ کار بلوچستان کے 22 اضلاع تک پھیل گیا ہے۔تاہم یہ گروہ بولان، ہرنائی، قلات، کیچ، خضدار، پنجگور، کوئٹہ، سبی، نوشکی اور مستونگ میں تواتر کے ساتھ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔بی ایل اے کا نشانہ سکیورٹی ادارے، بڑے ترقیاتی منصوبے اور ان میں کام کرنے والے غیر بلوچ ملازم بالخصوص چینی اور پنجابی ہیں۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ:اس گروہ کو نوجوان قوم پرست رہنما ڈکٹر اللہ نذر، غلام محمد بلوچ اور واحد قمبر نے 2003 میں قائم کیا تھا۔شروع میں اس نے بی ایل اے سے تربیت اور مدد حاصل کی۔ سیاسی طور پر یہ گروہ بلوچستان نیشنل موومنٹ سے تعلق رکھتا ہے جس کے زیادہ طور لوگ پاکستان سے باہر مغربی ممالک میں قیام پزیر ہیں۔گروہ کو بی این ایم اور بی ایس او آزاد کی بھی مدد حاصل ہے۔ یہ گروہ قوم پرست بلوچوں کے متوسط طبقے کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا حمال حیدر بلوچ کے ساتھ بھی قریبی تعلق ہے جو عالمی سطح پر متحرک ہیں۔اللہ نذر ایک دور میں ڈاکٹر مالک بلوچ، جو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، کی نیشنل پارٹی سے بھی وابستہ رہے۔ڈاکٹر اللہ نذر کے بارے میں خیال ہے کہ ان کے پاکستان ایران سرحد کے دونوں اطراف ٹھکانے ہیں۔ بعض مبصرین کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان میں ہیں۔پاکستان میں بی ایل ایف کے دیگر اہم رہنماﺅں میں اختر ندیم اور خلیل بلوچ شامل ہیں۔ گورام بلوچ اس گروپ کے ترجمان ہیں۔ایران کی سرحد سے متصل ضلع کیچ کی وادی نما تحصیل بلیدہ اس گروپ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہ گروہ مشکیل (خاران )، آواران ، پنجگور کے اضلاع کے ساتھ، بسیمہ، واشک، جیوانی اور پسنی کے ساحلی علاقوں میں بھی متحرک ہے۔گذشتہ دو سالوں میں اس گروہ نے پانچ جنوبی اضلاع کو تواتر کے ساتھ نشانہ بنایا جن میں گوادر، کیچ، لسبیلہ، پنجگور اور آواران شامل ہیں۔چین اور سی پیک کے مخالف یہ گروہ کوئٹہ اور کراچی کے کچھ حملوں میں بھی ملوث پایا گیا۔
براس (بلوچ راجی اجوئی سانگڑ):بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کا یہ اتحاد 2018 میں قائم ہوا تھا جس میں بی ایل اے، بی ایل ایف، بلوچ ریپبلکن گارڈز اور بی این اے شامل تھے۔اس کا مقصد پاکستان میں چینی منصوبوں کو نشانہ بنانا تھا۔ اگلے سالوں میں یہ اتحاد بڑے خطرے کے طور پر ابھرا۔ تاہم بی این اے کے امام گلزار کی گرفتاری کے بعد اس اتحاد کو دھچکا پہنچا۔اس اتحاد نے 2024 کی انتخابی مہم کو بھی نشانہ بنایا تھا اور پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے اعدادو شمار کے مطابق جنوری اور فروری 2024 کے دو ماہ کے دوران اس نے 18 حملوں میں سیاسی رہنماﺅں، کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔
بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے):بی آر اے کو بگٹی ملیشیا بھی کہا جاتا ہے جو نواب اکبر بگٹی کے قبیلے پر مشتمل ہے۔گذشتہ پانچ سالوں میں اس نے بلوچستان کے دیگر اضلاع تک اپنا نیٹ ورک پھیلا کر نوجوانوں کو بھرتی کیا، جن میں گوادر اور کیچ کے اضلاع سرفہرست ہیں۔اس کے جنگجوﺅں کو بی ایل ایف کی مدد حاصل ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ بلوچستان ریپبلکن آرمی، بلوچ ریپبلکن پارٹی کا عسکری ونگ ہے اور براہمداغ بگٹی اس گروہ کو چلا رہے ہیں۔
یونائٹیڈ بلوچ آرمی:یہ بلوچستان لبریشن آرمی سے الگ ہونے والا دھڑا ہے۔ عبدالنبی بنگل زئی نامی ایک سخت گیر بلوچ کمانڈر جنھیں شہریوں اور بلوچ تاجروں کو لوٹنے کے الزام پر بی ایل اے سے نکال دیا گیا تھا، اس خطرناک گروپ کے سرغنہ ہیں۔عام طور پر بلوچ باغی گروہ شہریوں بالخصوص بلوچوں پر حملے نہیں کرتے مگر بنگل زئی کا خیال ہے کہ جو بلوچ علیحدگی کے حامی نہیں وہ بھی سزا کے حق دار ہیں۔بنگل زئی نے بعد ازاں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اس گروہ کے دوسرے حصے کے رہنما مہران مری ہیں جو لندن میں قیام پزیر ہیں اور پاکستان کے خلاف مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس گروہ میں زیادہ تر مری قبیلے کے جنگجو شامل ہیں، مگر ساراوان اور بولان کے جنگجو بھی اس کا حصہ ہیں۔یہ گروہ چاغی، نوشکی، بولان، لسبیلہ، بسیمہ اور واشک کے اضلاع میں سرگرم ہے۔
بلوچ ریپبلکن گارڈز:بختیار ڈومکی نے 2012 میں کراچی میں اپنی بیوی اور بیٹی کے قتل کے بعد یہ گروہ قائم کیا تھا۔ڈومکی کی شادی براہمداغ بگٹی کی بہن سے ہوئی تھی۔ یہ گروہ اب سرگرم نہیں رہا لیکن نصیر آباد کے ضلعے میں اس کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔2023 میں اس گروہ نے دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جن میں سے ایک کوئٹہ اور دوسرا صحبت پور میں کیا گیا۔ یہ گروہ بھی براس اتحاد کا حصہ ہے۔
لشکر بلوچستان:یہ گرو 2008 میں وجود میں آیا تھا۔ اس گروہ کا ہدف زیادہ تر مکران ڈویژن تھا۔تاہم حالیہ برسوں میں یہ غیر فعال نظر آتا ہے۔میر نورالدین مینگل فعال ہیں کو جو امریکا میں بلوچستان کے مسئلے پر تواتر کے ساتھ تقریبات کرتے رہتے ہیں۔ لشکر بلوچستان لسبیلہ، مکران، خضدار اور پنجگور میں متحرک ہے۔
بلوچ نیشنل آرمی:بی این اے کو حال ہی میں اس کے دو اہم رہنماﺅں کی جانب سے پرتشدد کارروائیاں چھوڑنے کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑا۔یہ گروہ 2022 میں دو باغی بلوچ گروہوں کے ادغام کی وجہ سے بنا تھا جن میں یو بی اے، بی آر اے اور بی این اے سے الگ ہونے والے عسکریت پسند شامل تھے۔اس کے قیام کا مقصد بلوچ مزاحمتی تحریک کو بڑھانا تھا۔ تاہم اس کے رہنما گلزار امام نے، جو شامبے کے نام سے بھی معروف ہیں، 23 مئی، 2023 کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں ماضی میں اپنی عسکری کارروائیوں پر پشیمانی ظاہر کی تھی۔اس پریس کانفرنس کو انٹیلی جنس اداروں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دسمبر میں بی این اے کے کمانڈر اور ترجمان سرفرازاحمد بنگل زئی نے، جنھیں مرید بلوچ کے نام سے جانا جاتا تھا، اپنے 70 ساتھیوں کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے تھے۔
دہشت گردی کے عالمی چمپئن امریکا کی آشیر باد سے پاکستان کا روایتی دشمن بھارت بلوچستان میں مداخلت کر کے امن و امان کی صورت حال بگاڑنے اور بلوچ نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف ابھارنے میں سرگرم ہے۔ کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بھی اس کی مدد گار ہے، بلوچستان سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے اور بی ایل ایف کو افغانستان سے آپریٹ کیا جا رہا ہے۔را نے دہشت گرد تنظیموں کے کارندوں کو تربیت کی فراہمی کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور ان دہشت گردوں کو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی راپاکستانی سالمیت کیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ خفیہ ادارے دہشت گردوں کو خودکار ہتھیار چلانے، بارود کے استعمال اور خودکش جیکٹ تیار کرنے کی بھی تربیت دیتے ہیں۔ بلوچ دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم ٹی ٹی پی کی بھی مکمل حمایت و مدد حاصل ہے اور یہ تنظیمیں آپس میں مل کر کئی اہم شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتی ہیں۔ بی ایل اے ٹی ٹی پی اتحاد کا ہدف اغوا برائے تاوان سے گمشدہ لوگوں کا بیانیہ بنانا بھی ہے، بہت سے گمشدہ افراد بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے دہشت گرد تنظیموں کے کارندوں کو تربیت کی فراہمی کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور ان دہشت گردوں کو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی راپاکستانی سا لمیت کیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ خفیہ ادارے دہشت گردوں کو خودکار ہتھیار چلانے، بارود کے استعمال اور خودکش جیکٹ تیار کرنے کی بھی تربیت دیتے ہیں۔ بلوچ دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم ٹی ٹی پی کی بھی مکمل حمایت و مدد حاصل ہے اور یہ تنظیمیں آپس میں مل کر کئی اہم شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتی ہیں۔
بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ان عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے جن کا سیاست اور سیکیورٹی معاملات سے کوئی لینا دینا تک نہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی افراد حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے پہلے ہی شہر چھوڑنے پر مجبور ہیں، اس طرح کے واقعات
انھیں مزید خوف زدہ کر دیتے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی کارروائیاں افغانستان کے اندر ابھی تک جہادی کیمپوں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان غیر ملکی جنگجوو ¿ں کی حفاظت کا داعی ہے بلکہ ان کی مہموں کی مدد کا بھی قائل ہے۔طالبان کے افغانستان میں حکومت کے آنے کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات تو بڑھے ہیں اور مزید بڑھ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے سلیپنگ سیل موجود تھے اور انھوں نے دوبارہ کارروائیاں شروع کر دیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن تو ہوئے لیکن ان کی جڑوں کا خاتمہ نہیں ہوئے اور ان کے تعلقات موجود رہے انھی کا وہ اب استعمال کر رہے ہیں اس وقت دہشت گردوں کی صلاحیت بڑھ رہی ہے، ان کے پاس جدید ہتھیار موجود ہیں اور ان کی کارروائیاں مستقبل میں خطرناک صورتحال میں اضافہ کر سکتی ہیں۔بلوچستان میں خفیہ اطلاعات پر ہزاروں چھوٹے بڑے آپریشنز کیے گئے جس کے باعث دہشت گرد سرحد پار دم دبا کر بھاگ نکلے مگر افغانستان کا ان دہشت گردوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ بلوچستان میں اکثر بسوں میں اسلحہ بردار نقاب پوش داخل ہوتے ہیں۔ بس میں سوار تمام افراد کا شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اور ایسے مسافروں کو جن کے شناختی کارڈ پر پنجاب کے ایڈریس درج ہوتے ہیں انھیں گن پوائنٹ پر بس سے اتار لیا جاتا ہے اور باقی مسافروں کو بس سمیت آگے جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے بعد ازاں ان افراد کی لاشیں ملتی ہیں ۔میڈیا،سیاستدان، انسانی حقوق کی تنظیمیں اگرچہ بلوچستان میں گمشدہ افراد کے مسئلہ پر بہت بات کرتی ہیں۔ اس پر دھرنے، لانگ مارچ اور مظاہرے بھی کیے جاتے ہیں جس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن بلوچستان میں بسوں سے اتار اتار کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بہیمانہ قتل و غارت پر کیوں ایسے ہی بات نہیں کی جاتی۔ یہ بھی ریاست کی ذمے داری ہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی غیر قانونی عمل یا دہشتگردی میں شریک افراد سے نمٹا جائے لیکن سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ حقوق کے نام پر کتنے بے قصور ڈاکٹروں، پروفیسروں، اساتذہ ، کاروباری افراد، محنت کشوں کو محض ا ±ن کی کسی مخصوص علاقہ سے شناخت کی بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے۔یہ ظلم رکنا چاہیے اور اس ظلم کو ظلم کہتے ہوئے کسی کو ہچکچاہٹ کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بھی ایک تعداد موجودہے۔ افغانستان مسلسل پاکستان دشمنی پر آمادہ ہے۔فغانستان حکومت تمام احسانات بھلا کر دشمنی پر اتر آئی اور پھر پاکستان سے مہربانی کی توقع بھی رکھی جائے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کیا افغان سیاسی عمائدین بھی پاکستان کے حق میں ایسے ہی جذبات رکھتے ہیں؟ موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے بھارت اور افغانستان دونوں برابر ہیں۔ بلا تفریق مسلک، ملت، سیاسی اور لسانی فرقہ بندی ہر دہشت گرد کو بنا کسی ابہام کے انجام تک پہنچانا ہوگا۔پوری دنیا میں دہشت گردی کا انحصار فنڈنگ کے بہت سے ذرائع پر ہے۔ دہشت گردوں کی استعمال کی جانے والی فنڈنگ کے ذرائع میں جائز ذرائع سے جمع ہونے والے فنڈز شامل ہو سکتے ہیں، جیسے ذاتی عطیات، کاروبار اور خیراتی تنظیموں سے منافع شامل ہے۔ تنظیموں کی طرف سے عطیات اور خیرات کے طور پر جمع کی گئی رقم کا ایک فیصد ہتھیاروں، آلات کی خریداری اور تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذادہشت گردی کو ایک مناسب ڈھانچے میں تبدیل کردیا گیا ہے، وہ اس کاروبار میں ملوث ہیں، بشمول منشیات جو یہاں تیار نہیں کی جاتی ہیں وہ افغانستان سے آتی ہیں۔ ہنڈی/حوالہ کا نظام پاکستان، بھارت اور مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے قائم ہے۔یہ اتنے لمبے عرصے سے دہشت گردی کی مالی معاونت سمیت ہر طرح کے کالے دھن کو لانڈرنگ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ دہشت گرد گروہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ یہ بہت سے جائز کاروباروں میں کامیاب رہتا ہے اور ہمارے بینکرز، تاجروں اور مقامی تاجروں نے اس کا غلط استعمال کیا ہے۔ جرائم کی زیادہ تر آمدنی غیر قانونی ذرائع سے ہوتی ہے،
یعنی بدعنوانی، ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ (بنیادی طور پر اس کی افغان سرحد سے)،اسمگلنگ، غیر قانونی جوا اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں ۔طویل عرصے بعد لگا تار دہشت گردی کی کارروائیوں نے واضح کر دیا ہے کہ مبہم اور نیم دلانہ پالیسیوں سے کام نہیں چلے گا، ساتھ ہی بہت سارے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ ایسے بہت سے سوال موجود ہیں جن کا جواب منافقت کا چولا اتار کر سیاسی اور تزویراتی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر تلاش کرنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ جنگ صرف اور صرف ہماری ہے، ملک اور نسل کی بقا کی جنگ، اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ دانش مندانہ اور فلسفیانہ موشگافیوں سے نکل کر حقیقت سے آنکھیں چار کرنی ہوں گی۔نظام میں اصلاحات کا کام سویلین حکومت اور پارلیمنٹ کا ہے۔ قوانین اور ہمیں یقین ہے کہ اگر نیک نیتی سے قوم کو اعتماد میں لیا جائے اور اس کی تائید و عملی شراکت سے اس سمت میں پیشِ رفت کی جائے تو حالات جلد تبدیل ہوسکتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ مصلحتوں کا بالائے طاق رکھ کر بلوچستان میں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف بھرپور آپریشن کرکے بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے۔