کراچی(خصوصی رپورٹ)سن 1997 میں، پاکستان برسوں سے قومی مردم شماری کے انعقاد میں مشکلات کا شکار تھا۔ بار بار تاخیر کے سبب ہر انتظامی یونٹ کے پاس اپنے الگ تخمینے تھے، جس کی وجہ سے قومی سطح پر درست آبادی کے اعداد و شمار حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ داخلی اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کو بھی اس حوالے سے قائل کرنا آسان نہ تھا۔اس پیچیدہ صورتحال میں، اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کی مسلح افواج کو قومی مردم شماری کے انعقاد کے لیے طلب کیا۔ ہیڈکوارٹرز آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، اور میجر جنرل زاہد احسان کو اس منصوبے کا نگران مقرر کیا گیا۔ بنیادی ہدف تو مردم شماری کا انعقاد تھا، لیکن میجر جنرل زاہد نے اس موقع کو ایک بڑی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھا—ایسی شناختی نظام کی بنیاد رکھنے کا موقع جو ہر شہری کو نہ صرف شمار کرے بلکہ اسے ایک منظم ڈیجیٹل شناختی نظام میں شامل کرے۔اسی سوچ کے تحت، ایک مرکزی، محفوظ اور جدید ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا خاکہ تیار کیا گیا۔ اس انقلابی تصور کی بنیاد رکھنے والی ٹیم میں بریگیڈیئر مدثر اصغر خان (سگنلز)، کرنل سید تلمیذ عباس (ایئر ڈیفنس)، اور میجر سہیل اقبال (انجینئرز) شامل تھے، جبکہ بریگیڈیئر شاہد بہرام (آرمی سروسز کور)، کرنل نعیم احمد خان (ایئر ڈیفنس)، اور میجر اجمل کاہلوں (بلوچ رجمنٹ) نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ حکومتِ پاکستان نے اس منصوبے کو منظور کیا، اور مارچ 1998 میں نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن (NDO) کا قیام عمل میں لایا گیا۔مردم شماری جیسے بڑے منصوبے کے لیے 60 ملین ڈیٹا فارم پرنٹ کیے گئے، جو ملک کے ہر گھر تک پہنچائے گئے۔ اس نادر موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے، فیصلہ کیا گیا کہ مردم شماری کے دوران نہ صرف آبادی کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے، بلکہ ہر شہری کی جامع معلومات بھی حاصل کی جائیں۔ مردم شماری ٹیم نے پورے ملک کے گھروں کے دو دورے کیے؛ پہلے مرحلے میں فارم دیے گئے اور دوسرے مرحلے میں انہیں واپس لیا گیا تاکہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہی نیشنل ڈیٹا فارم (NDFs) آج بھی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے درخواست فارم کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے قومی سطح پر ڈیجیٹل شناختی نظام کی بنیاد رکھی، اور اس جدت کے ساتھ پاکستان دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہو گیا جنہوں نے اس پیمانے پر ایسا اقدام کیا۔محدود وسائل کے باوجود، اس منصوبے کو غیرمعمولی مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ پاکستان کی مسلح افواج، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS)، اسکول اساتذہ، اور سرکاری ملازمین کو ملک کے ہر علاقے تک بھیجا گیا، بشمول فاٹا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان۔ ڈیٹا جمع ہونے کے بعد، اگلا چیلنج اس کی ڈیجیٹائزیشن تھا، کیونکہ اس وقت ایسے ہائی اسپیڈ اسکینرز موجود نہیں تھے جو اتنے بڑے ڈیٹا کو فوری طور پر پروسیس کر سکتے۔مزید برآں، اردو زبان کمپیوٹر پر مکمل طور پر معاونت یافتہ نہیں تھی، اس لیے نیشنل لینگویج اتھارٹی کے تعاون سے اردو کی ڈیجیٹل پروسیسنگ کے لیے معیاری نظام وضع کیا گیا۔ 20,000 نوجوان پاکستانیوں کو خصوصی تربیت دے کر اردو ڈیٹا انٹری کے لیے تعینات کیا گیا۔ ان کی انتھک محنت کی بدولت پاکستان کا پہلا قومی شہری ڈیٹا بیس وجود میں آیا۔سال 2000 کے اوائل میں جنرل پرویز مشرف کو اس منصوبے کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس منصوبے کی طویل مدتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہوں نے آبادی کی مکمل دستاویز بندی کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا حکم دیا۔ ان کی ہدایت پر، نیشنل ڈیٹا بیس آرگنائزیشن (NDO) کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف رجسٹریشن (DGR) کے ساتھ ضم کر کے 10 مارچ 2000 کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کا قیام عمل میں آیا۔ میجر جنرل زاہد احسان کو اس کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
ابتدائی دنوں میں، نادرا کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ چونکہ کوئی مخصوص بجٹ مختص نہیں کیا گیا تھا، اس لیے مالیاتی خود مختاری حاصل کرنے کے لیے غیر روایتی طریقے اپنانے کی ضرورت پیش آئی۔ انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کو ڈیجیٹل ووٹر لسٹ درکار تھی۔ نادرا نے اپنی ڈیٹا کلیکشن کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر پاکستان کی پہلی کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرست تیار کی۔یہ حکمت عملی نہ صرف قومی انتخابات کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل حل فراہم کرنے میں کامیاب رہی بلکہ نادرا کی مالی خود مختاری کو بھی یقینی بنایا۔ الیکشن کمیشن نے نادرا کو 500 ملین روپے ادا کیے، جسے نادرا نے مزید 3.5 بلین روپے کے تجارتی قرضے کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ یہ قرض جلد ہی واپس کر دیا گیا، اور نادرا کا خود کفالت کا ماڈل قائم ہوا، جو آج بھی اس کا طرۂ امتیاز ہے۔نادرا کے قیام کے بعد، پاکستان نے 2001 میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) متعارف کرایا، جو کہ ایک محفوظ، جدید اور ٹیکنالوجی سے آراستہ شناختی دستاویز بن گیا۔ وقت کے ساتھ، یہ نظام پاسپورٹ کے اجرا، بارڈر کنٹرول، اور سماجی تحفظ کے منصوبوں میں مدد فراہم کرنے لگا۔ CNIC کی بدولت “Know Your Customer” (KYC) جیسے مالیاتی لین دین، سماجی بہبود کے پروگراموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خدمات کی راہ ہموار ہوئی۔نادرا کی کامیابی میں پاکستان فوج کے ان افسران کا لازوال کردار ہے جنھوں نے اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر اس کی داغ بیل ڈالی اور ساتھ ہی ساتھ ان نوجوانوں کو تربیت دی جنہوں نے ابتدائی دنوں میں ایک قومی مقصد کے تحت نادرا شمولیت اختیار کی اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔اگرچہ نادرا کے سفر میں کئی چیلنجز آئے، مگر نتیجہ ایک غیر معمولی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ آج، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ایک جدید اور مکمل ڈیجیٹل شناختی نظام موجود ہے، جو حکمرانی، اقتصادی منصوبہ بندی اور سماجی تحفظ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
یہ ہے نادرا کی کہانی — ایک ایسی جدت، استقامت اور عزم کی داستان جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی، اور آج یہ قومی شناختی نظام کی بنیاد بن چکی ہے۔ملکی دفاع اور بقا میں سر گرم عمل پاکستان فوج کا نادرا کی بنیاد اور ارتقا میں کلیدی کردار ہے