لاہور(نمائندہ خصوصی) سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے خواتین کی ترقی اور بااختیار بنانے کے متعدد منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر پنجاب کی بیٹی کے تحت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کو ”ویمنز ڈے ایوارڈ” سے نوازا گیا، جبکہ خواتین کے حقوق اور مساوی مواقع کے فروغ کے لیے اہم اعلانات کیے گئے۔مریم اورنگزیب نے تقریب کے دوران ڈے کیئر سینٹرز اور ورکنگ ویمن ہاسٹلز کے لیے ایک جدید آن لائن پورٹل اور موبائل ایپ کا افتتاح کیا، جس سے کام کرنے والی خواتین کو سہولت ملے گی۔ مزید برآں، ویمن ڈویلپمنٹ سینٹرز کے قیام کا اعلان کیا گیا، جہاں خواتین کو پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہو? مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کے لیے 18 یونیورسٹیوں میں ڈے کیئر سینٹرز کو دوبارہ فعال کر دیا گیا، 50 یونیورسٹیوں میں خواتین کے حقوق سے متعلق آگاہی مہمات شروع کی گئیں، جبکہ ویمن بزنس سینٹرز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ صوبے میں ڈے کیئر سینٹرز کی تعداداس وقت 400 ہوچکی ہے اور خواتین کے گھروں کو سکل ڈویلپمنٹ پروگرامز سے منسلک کرنے کے لیے موبائل یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، ملازمت پیشہ خواتین کے لیے ورکنگ ویمن ہاسٹلز کی تعداد 165 تک بڑھا دی گئی ہے۔مریم اورنگزیب نے اعلان کیا کہ ”اسان کاروبار اسکیم” کے تحت خواتین کو مالی معاونت دی جائے گی تاکہ وہ اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں، جبکہ ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے قیام سے خواتین کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت خواتین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ وہ ہر شعبے میں ترقی کر سکیں اور ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کریں۔خواتین کی معاشی خودمختاری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے حقوقِ برابری ولیج گارمنٹس سینٹرز اور سبزہ زار میں اینٹرپرینیورشپ سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں خواتین کو کاروباری تربیت فراہم کی جائے گی۔ خواتین کے لیے سفری سہولت میں بہتری کے لیے ای-بائیکس پروگرام بغیر کسی کوٹے کے شروع کیا گیا، جبکہ فیشن انڈسٹری میں خواتین کی ترقی کے لیے ”ہینڈ ہولڈنگ” پروگرام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار وائلڈ لائف فورس میں 35 خواتین کو شامل کیا گیا، جس کے بعد فورس میں خواتین کا تناسب 23 فیصد ہو گیا ہے۔خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ورچوئل اسٹیشنز قائم کیے ہیں، جبکہ تمام سڑکوں پر پینک بٹنز بھی نصب کیے گئے ہیں، جو فورسز کے ساتھ منسلک ہوں گے۔ 1250 فیڈ ہسپتال اور کلینک ان ویلز کے ذریعے خواتین کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ دستکاری اور ہنر سیکھنے کے مراکز کو دوبارہ فعال کر کے خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ”پنجاب کی بیٹی مریم نواز خواتین کے حقوق اور خودمختاری کے لیے کام کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین خود اپنی آواز بلند کریں، اور حکومت ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے
تحت گھریلو خواتین کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز مہیا کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ گھروں میں رہ کر کام کر سکیں اور معاشی خودمختاری حاصل کر سکیں۔مریم اورنگزیب نے پاکستان کی ان تمام عظیم خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا جو خواتین کے حقوق کے لیے کھڑی ہوئیں، جن میں محترمہ بے نظیر بھٹو، کلثوم نواز شریف، فاطمہ جناح اور پاکستان بھر کی تمام باہمت خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”میری والدہ اور والد نے مجھے طاقت دی، اور میں آج جو کچھ بھی ہوں، وہ ان کی بدولت ہوں۔ میں ان تمام والدین کو سلام پیش کرتی ہوں جو اپنی بیٹیوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔”تقریب کے اختتام پر مریم اورنگزیب نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”پنجاب کی بیٹی اب ایک ایسی ماں اور بیٹی کے ہاتھ میں ہے جو کبھی آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔” انہوں نے شہباز شریف اور نواز شریف کو بھی خواتین کے حقوق کے لیے انقلابی اقدامات پر مبارکباد دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب میں خواتین کی ترقی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے گا، تاکہ ہر بیٹی اور ہر ماں معاشی، سماجی اور قانونی طور پر مکمل بااختیار ہو سکے۔