: اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل افتخار احمد سروہی کو اسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اور چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے بڑی تعداد میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس مسلح افواج کے اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت مرحوم ایڈمرل کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی روح کے لیے دعا کی۔ایڈمرل افتخار احمد سروہی کا بحری کیریئر چار دہائیوں پر محیط تھا۔ انہیں 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لینے کا اعزاز حاصل تھا۔ انہوں نے 1986 سے 1988 تک چیف آف دی نیول اسٹاف کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1988 سے 1991 تک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے بہترین قائدانہ صلاحیتوں، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور پیشہ ورانہ مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا۔سابق چیف آف دی نیول اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی 01 اپریل 1952 کو پاک بحریہ میں شامل ہوئے اور 1955 میں پاکستان نیوی کی آپریشنز برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ فلیگ آفیسر نے پاک بحریہ کے جہازوں پی این ایس عالمگیر، بدر اور بابر کی کمانڈ کی تھی۔ وہ کمانڈر پاکستان فلیٹ، کمانڈر کراچی اور منیجنگ ڈائریکٹر کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس بھی رہ چکے ہیں۔ سفارتی محاذ پر، وہ برطانیہ میں دفاعی اور نیول اتاشی (پاکستان) کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ فلیگ آفیسر برطانیہ کے نیول اسٹاف کالج کے گریجویٹ تھے۔ان کی اعلٰی خدمات کے اعتراف میں انہیں نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔صدر پاکستان، وزیراعظم، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، چیف آف دی نیول اسٹاف، آرمی چیف، ایئر چیف، سینئر نیول افسران اور اعلیٰ سول شخصیات کی جانب سے ایڈمرل افتخار احمد سروہی کی قبر پر پھولوں کی چادریں بھی چڑھائی گئیں۔