راولپنڈی ( کورٹ رپورٹر نمائندہ خصوصی)“جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت ساتھیوں کی افسوسناک شہادت کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ اللہ پاک شہداء کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین پاکستان میں رجیم چینج کے بعد سے دہشتگردی کا ناسور مکمل طور پر بے قابو ہو چکا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دھماکے اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام نے دہشتگردی کے خلاف بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ گھر گھر جنازے اٹھائے گئے ہیں۔ ابھی امن قائم ہوئے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا کہ ناقص پالیسیوں کی بدولت ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے۔پاکستان کی عوام اب کسی پرائی جنگ کا ایندھن بننے کو تیار نہیں ہے۔ اس حوالے سے خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں امن مارچ کا انعقاد ہوا جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ جب عوام خود اپنے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑنا سیکھ لے گی امن تب ہی ہمارا مقدر بنے گا۔اس کے علاوہ ایک اہم مسئلہ پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں پانی کی تقسیم کا بھی ہے اور اس کا حل ہونا ناگزیر ہے۔ سندھ اس وقت خشک سالی سے گزر رہا ہے اور وہاں کی عوام اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں جس کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کے زرعی مستبقل کی حفاظت کے لیے اہم ہے کہ تمام صوبوں کو ان کے حصے کا پانی ملے۔ ہم سندھ کے عوام کے حقیقی نمائندگان کی رضامندی کے بغیر نئی نہروں کے منصوبے کے اجرا پر سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم سندھ کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔ آبی وسائل کی تقسیم تمام صوبوں کی باہمی رضامندی کے تابع ہے۔جب تک تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں واپس نہیں جاتے اور ایک عوامی حمایت والی حکومت نہیں آتی تب تک ملک روز بروز نئے بحرانوں کا شکار ہوتا رہے گا- ایس آئی ایف سی ایک غیر آئینی ادارہ ہے جس کا مقصد غیرملکی سرمایہ کاری لانا بتایا گیا تھا- اب تک کوئی سرمایہ کاری تو نہیں ہوئی لیکن اس کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں کو فوجی کنٹرول میں دے دیا گیا ہے جس سے پہلے سے تنزلی کا شکار ریاستی نظام مزید تباہ و برباد ہو گیا ہے- اب مزید آگے بڑھتے ہوئے کسانوں اور نہروں کا مسئلہ بھی کھڑا کر دیا ہے-“