کراچی ( نمائندہ خصوصی):کراچی میں ایک سیمینار کے مقررین نے مودی کی بھارتی حکومت کی طرف سے اگست2019میں دفعہ 370کی غیر قانونی منسوخی کے بعدمقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی زندگیوں پر پڑنے والے سماجی ، سیاسی اور قانونی اثرات کو اجاگر کیاہے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ”دفعہ 370کی منسوخی: سیاسی اور سماجی مضمرات” کے عنوان سے سیمینار کااہتمام کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کراچی کے تعاون سے کیاتھا۔ سیمینار میں اسکالرز، قانونی ماہرین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اورمودی حکومت کے اس غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کے مقبوضہ علاقے کے عوام پر پڑنے والے سیاسی ، سماجی اورقانونی اثرات کو اجاگر کیا۔ سیمینار کی صدارت وائس چانسلر سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کراچی پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین صحرائی میمن نے کی اورکل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینرغلام محمد صفی اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ مقررین میں کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی،حریت رہنماء ایڈووکیٹ پرویز احمد، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز ڈاکٹر شائستہ تبسم اور ڈاکٹر ہما ریاض ڈار شامل تھے ۔مقررین نے جموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی آئینی وقانونی حیثیت ، کشمیریوں پر پڑنے والے اثرات اور بھارتی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا۔ شرکا نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔