کراچی (نمائندہ خصوصی) قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی صحت، زندگی، رہائی اور وطن واپسی کے لیے ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر آئینی پٹیشن نمبر 3139/2015 کی گزشتہ سماعت کے بعد عدالت نے آرڈر شیٹ جاری کردی ہے۔ جس میںاسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سرداراعجاز اسحق خان نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ عدالت کے سابقہ حکم کے مطابق اگلی سماعت 21 فروری سے قبل ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور عافیہ کے امریکی وکیل کلائیو اسمتھ کے ڈیکلریشن اور ممتاز امریکی اسکالر ڈاکٹر عمر سلیمان کے کھلے خط کا تحریری جواب لے کر عدالت میں پیش ہوں۔عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ وزارت خارجہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد حمزہ جنہوں نے اس کیس میں فعال کردار ادا کیا مگر وزارت امور خارجہ (موفا)کی چین آف کمانڈ میں زیادہ اوپر نہیں ہیں۔ عدالتی حکمنامے میں ڈاکٹر عمر سلیمان کے خط کا حوالہ دیا گیا ہے کہ سابق امریکی اٹارنی جنرل ریمزے کلارک نے ڈاکٹر عافیہ کے کیس کو انفرادی طور پر ناانصافی کا بدترین کیس قرار دیا تھا ، عمر سلیمان کے کھلے خط کے مطابق پاکستانی حکومت نے عافیہ کو بھلا دیا ہے،اور اب اس غلطی کی اصلاح کا وقت اگیا ہے۔حکمنامے میں ایڈیشنل سیکریٹری (امریکا) کو ہر سماعت میں عدالت میں حاضر ہونے اور اگر کسی سماعت میں حاضری سے استثنیٰ کے لیے پیشگی درخواست دائر کرنا ہوگی۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 21 فروری کو ہوگی۔