لاہور۔(نمائندہ خصوصی):چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے میو ہسپتال لاہور کے برن یونٹ کا منگل کو دورہ کیا جہاں انہوں نے حالیہ تیزاب گردی کے واقعے میں شدید زخمی ہونے والی متاثرہ لڑکی اور اس کی والدہ سے ملاقات کی اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ریپڈ ریسپانس سیل جلد قائم کیا جائے گا جو ایسے کیسز میں فوری قانونی و طبی مدد فراہم کرے گا، اس میں لیگل ایکسپرٹس، سائیکا لوجسٹس اور سوشل ورکرز کی ٹیم شامل ہوگی جو متاثرہ خواتین کی بحالی اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔حنا پرویز بٹ نے کہا کہ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک ویک اپ کال ہے، ہمیں ایسے گھنائونے جرائم کے خلاف مضبوط، موثر اور فوری ایکشن لینے والا سسٹم بنانا ہوگا جس کے لیے ہم ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر رہے ہیں تاکہ خواتین کو بروقت انصاف اور مکمل تحفظ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ ریسپانس سیل کا مقصد نہ صرف ایسے مجرمانہ واقعات کی فوری روک تھام ہے بلکہ متاثرہ خواتین کو ذہنی، سماجی اور قانونی مدد فراہم کرنا بھی ہے۔یہ سیل 24/7 ہیلپ لائن، موبائل یونٹس اور ریجنل کوآرڈینیشن سینٹرز کے ذریعے کام کرے گا۔ حنا پرویز بٹ نے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ تیزاب گردی کے اس کیس میں ملوث تمام ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کریں۔