اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی):کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے لئے منصفانہ جدوجہد جاری رکھیں گے، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا جس کا مقصد عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے غیر فعال ضمیر کو جھنجوڑنا ہے تاکہ دہائیوں سے جاری تنازعہ کشمیر کو حل کیا جا سکے۔بدھ کوپاکستان کلچرل فورم کے زیر اہتمام کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کے اظہار کے لیے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی سے خطاب کرتے ہوئے مشعال حسین ملک نے کہا کہ بھارتی حکومت اپنی جابرانہ پالیسیوں کے لیے بدنام ہے، اس نے کئی دہائیوں کے منظم جبر کے ذریعے جنت جیسی وادی کو جہنم بنا دیا ہے۔تقریب میں سیاستدانوں، دانشوروں اور فنکاروں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔قبل ازیں مشعال حسین ملک جو پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بھی ہیں، نے کلثوم انٹرنیشنل ہسپتال سے ڈی چوک تک سول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ کشمیر یکجہتی واک کی قیادت کی۔اس واک کا مقصد نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی جابرانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کو اجاگر کرنا تھا جس میں بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبری گمشدگی، تشدد اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ 78 سال قبل کشمیریوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرے اور حق خودارادیت کے لیے ان کی جدوجہد کی حمایت کرے۔چیئرپرسن نے کشمیری عوام کی حالت زار کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور عالمی برادری پر دیرینہ تنازعہ کے حل میں مداخلت کے لیے دبائو ڈالنے کے لیے اجتماعی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کشمیری شہداء کی قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے متفقہ فارمولے اور خوبصورت وادی کے عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔مشعال حسین ملک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی خاموشی توڑے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے۔انہوں نے خونریزی کو روکنے اور کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دیرپا تنازعہ کے پائیدار، پرامن حل کے لیے کام کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ناگزیر ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے قیدیوں بالخصوص ان کے شوہر یاسین ملک اور دیگر پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم اور غیر انسانی کارروائیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں تسلط پسند بھارتی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ ان کے شوہر برسوں سے بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بند ہیں، اس نے ان کی صحت اور تندرستی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، انہیں جھوٹے، من گھڑت اور سیاسی طور پر محرک مقدمات میں موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔چیئرپرسن نے عالمی رہنمائوں سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو برقرار رکھیں اور تنازعہ کا دیرپا اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد میں مدد کریں۔