کراچی (نمائندہ خصوصی)ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے ایف ایم سی کارسویل جیل میں ان سے ملاقات کی لیکن”فون کام نہیں کر رہا“ جس کی وجہ سے وہ عافیہ سے بات نہیں کر سکے۔واضح رہے کہ آج یکم جون کو ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ سے جیل میں ملاقات طے ہے۔ڈاکٹر فوزیہ دسمبر، 2023 ءمیںجب اپنی بہن سے ملنے امریکہ گئی تھیں تو جیل حکام نے چابی نہ ملنے کا بہانہ بنایا تھا۔ کلائیو اسمتھ نے ملاقات کے بعدڈاکٹر عافیہ کے سپورٹرز کو تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے آج اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آج ایف ایم سی کارسویل میں عافیہ ملاقات کی،وہ حوصلہ منداوراچھے جذبہ کے ساتھ ملنے آئی لیکن وہ جیل سے رہائی کے لیے بے چین تھی۔کلائیو نے کہا کہ عافیہ کارسویل کو بہت آسانی سے الوداع کہہ دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا: آج ایف ایم سی کارسویل میں عافیہ سے ملاقات کے لیے چابی تلاش نہیں کرنی پڑی مگر فون کام نہیں کر رہا تھا اور جیل کے ٹیکنیشن کے پاس اسے صحیح کرنے کے لیے ا سکرو ڈرائیور نہیں تھا۔ عافیہ پر تشدد کی وجہ سے اس کی سماعت متاثر ہوئی ہے اس لیے اس کو کچھ بھی سننا مشکل تھا۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق آئینی درخواست کی آخری سماعت کی آرڈر شیٹ جاری کی۔ آرڈر شیٹ میں کہا گیا کہ وزارت خارجہ (MOFA) نے بھی اس اعلامیہ کو دیکھا ہے۔ فوری تشویش کے نکات پر اب توجہ دی گئی ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے گزشتہ دورہ امریکا کے دوران رکاوٹ ڈالنے کا معاملہ امریکی قونصل خانے کے ساتھ ساتھ امریکا میں بھی اٹھایا گیا ہے اور وزارت خارجہ کو پوری امید ہے کہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا۔ قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کے معاملہ میں ایسا لگتا ہے کہ ہم وہاں واپس آ گئے ہیں جہاں ہم کچھ سال پہلے تھے۔ قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے پر
دستخط کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ کثیر جہتی یا دو طرفہ کنونشنز میں سے کسی ایک کا فریق ہو۔چند سال پہلے حکومت کی طرف سے اس اسکور پر کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی آج ایسا ہے کہ وہ کس کنونشن میں فریق بننا چاہیں گے اور اگر نہیں تو کیوں نہیں۔آرڈر شیٹ کے پیرا 6 کے مطابق مسٹر اسمتھ نے 26000 الفاظ پر مشتمل درخواستیں تیار کی ہیں جو کہ ”لازمی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو دی گئی سزا میں عدالت (امریکہ میں) کے سامنے لگائے گئے تقریباً تمام حقائق غلط تھے“۔ مسٹر اسمتھ کو امید ہے کہ یہ جولائی کے شروع میں فائل کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔اگلا نکتہ امریکی صدر کے سامنے معافی کی درخواست کے سلسلے میں بااثر پاکستانی امریکیوں کی حمایت کو متحرک کرنے کی زیر غور تجویز سے متعلق ہے۔چند سال قبل اس وقت کے امریکی صدر کی میز پر معافی کی درخواست پہنچا دی گئی تھی، لیکن ان کی مدت صدارت ختم ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے اس پر دستخط نہیں ہو سکے تھے۔اب کوشش یہ ہے کہ اس پٹیشن کو کچھ بااثر پاکستانی اور امریکیوں کے تعاون سے بحال کیا جائے۔ معاونین نے یہ خوشخبری دی ہے کہ پاکستانی و امریکن وکلاءکے درمیان کچھ معنی خیز حمایت پیدا ہو رہی ہے، جس سے امید ہے کہ قانونی پہلوﺅں پر کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔ سماعت 14 جون 2024 تک ملتوی کر دی گئی۔