اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)الیکشن ایکٹ2017میں کی گئیں ترامیم میں سیکشن 24، 26، 28 سے 34، 36 اور44 کو حذف کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017میں ترمیم کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔بل دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ ترامیم میں نگران حکومتوں کے مالی اختیارات بڑھانے کے ساتھ ساتھ انتخابی ضابطہ اخلاق میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، کاغذات نامزدگی فارم میں بھی معمولی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ترامیم کے مطابق عام انتخابات کے تین دن کے اندر سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستوں پر ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا ہوگی۔انتخابی عزرداری پر 30دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا، 30دن میں فیصلہ نہ کیا تو امیدوار کو کامیاب قراردیا جائے گا۔نئی ترامیم کے مطابق ریٹرننگ افسر نتائج کی کاپی فوری الیکشن کمیشن کو بھجوائے گا اور اوریجنل کاپی 24گھنٹے کے اندر الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا پابند ہوگا۔ترامیم کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی مساوی تعداد کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی جائیں گی، تاہم حلقہ میں ووٹرز کی تعداد کی تبدیلی 5فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکے گی۔ترامیم میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 24، 26، 28 سے 34، 36 اور44 کو حذف کردیا گیا ہے، کوئی بھی کامیاب امیدوار قومی اسمبلی یا سینٹ اجلاس کے 2 ماہ کے اندر حلف نہیں لیتا تو اس کی نشست خالی قرار دے دی جائے گی۔