اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے جس میں اس نے جموں ٹاڈا عدالت میں ازخود پیش کرنے کی محمد یاسین ملک کی استدعا مسترد کر دی ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے آج پارٹی سنٹرل انفارمیشن آفس سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ مودی حکومت کی ایماءپر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے یاسین ملک کو از خود پیش نہ کرنے کے حوالے سے ایک غیر منتقی دلیل دی اور کہا کہ وہ ایک خطرناک دہشت گرد ہیں اور اس وجہ سے انہیں تہاڑ جیل سے باہر نہیں نکالا جاسکتا ۔ انہوںنے کہا یاسین ملک نے جنہیں ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا ، سی بی آئی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ ایک پرامن سیاسی رہنما ہے اور یہ کہ انہوں نے اپنی طویل سیاسی جدوجہد کے دوران کئی بھارتی وزرائے اعظم سے مسئلہ کشمیر کے پرامن سیاسی حل کے حوالے سے مذاکرات کئے ہیں۔
تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے یاسین ملک کے دلائل یکسر نظرانداز کئے اور جموں ٹاڈا عدالت میں بجائے ویڈیو لنک کے خود پیش کرنے کی انکی استدعا مسترد کی۔ترجمان نے کہا کہ جموں ٹاڈا کورٹ میں پرانے جھوٹے مقدمات کی پیشی رواں مہینے کے 19 تاریخ کو طے ہے۔