سرینگر(نیوز ڈیسک):غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء میر واعظ عمر فاروق کو مسلسل گھر میں نظر بند رکھا اور انہیں تاریخی جامع مسجد سرینگر نماز جمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بیان میں میرواعظ عمر فاروق کی مسلسل گھر میں نظربندی اور انکی پر امن منصبی اور دینی ذمہ داریوں پر قدغن عائد کئے جانے پر شدیدمذمت کی ہے ۔بیان میں کہاگیاہے کہ میرواعظ کے ساتھ قابض حکام کا یہ غیر جمہوری اور معاندانہ رویہ مسلمانان کشمیر کیلئے شدید اذیت کا باعث ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے اپنی نظر بندی کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی نظر بندی اور جامع مسجد میںنماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی قابض حکام کی اس مرکز سے خوفزدہ ہونے کی واضح علامت ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جبکہ متنازعہ وقف بل کی منظۖری کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کیلئے مشکلات میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے اورایسا لگتا ہے کہ اب مسلمانوںکو مساجد میں نماز کی ادائیگی اورقبرستانوں میں تدفن کیلئے بھی بھارتی حکام کی اجازت درکار ہوگی۔