سرینگر(نیوز ڈیسک):کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شب قدرکے موقع پر تاریخی جامع مسجد سرینگر میں کشمیری مسلمانوں کو عبادات سے روکنے کی شدید مذمت کرتے کہاہے کہ یہ اقدامات مقبوضہ علاقے میں صورتحال معمول پر آنے کے مودی حکومت کے دعوئوں پر سوالیہ نشان ہے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری پنڈتوں کی تنظیم نے سرینگر میں ایک بیان میں سوال کیاکہ کیا یہ جموں و کشمیر کی صورتحال میں بہتر ی ہے جس کا دعویٰ کیاجارہاہے کہ شب قدر جیسے مقدس موقع پر جامع مسجد میں مسلمانوںکو عبادت کرنے سے روک دیاگیاہے۔بیان میں مزیدکہاگیاکہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد صورتحال معمول پر آنے کے کھوکھلے دعوئوں کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے ۔ یہی وجہ ہے کہ جموں کی ہندواکثریتی علاقے میں گزشتہ تین سال میں دہشت گردی
میں اضافہ ہوا ہے۔تنظیم نے مزیدکہاکہ صورتحال معمول پر آنے کا اندازہ لاکھوں سیاحوں کی کشمیر آمد سے نہیں بلکہ جامع مسجد سرینگر میں کشمیری مسلمانوں کو اپنی عبادات کی اجازت دینے سے لگایا جاسکتا ہے ۔ قابض انتظامیہ کی طرف سے جامع مسجد سرینگر کو مقفل کئے جانے کی مذہبی اور سول سوسائٹی کے گروپوں نے سخت مذمت کی ہے۔