سرینگر:(نمائندہ خصوصی)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت علاقے میں اپنے نوآبادیاتی منصوبے پر اسی طرح تیزی سے عمل پیرا ہے جس طرح اسرائیل فلسطین میں ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت زمینوں پر قبضوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور معاشی طورپر کشمیریوں کا گلا گھونٹنے کی پالیسیوں کے ذریعے منظم طریقے سے مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت 27اکتوبر 1947کو جموں وکشمیر پر اپنے قبضے کے بعد سے مقامی کشمیری آبادی کو پسماندہ رکھنے اور ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ کشمیریوں کی املاک پر غیر قانونی قبضوں، سرکاری ملازمتوں سے برطرفی اور علاقے میں غیر کشمیری ہندئوں کی آباد کاری سمیت بھارتی اقدامات کشمیریوں کو سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی طور پر کمزور کرنے کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ حریت ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیاں جموں وکشمیرکے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں جن کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کا آخری ہدف کشمیری تشخص کو مٹانا اور ہندو آبادکاروں کی ایک کالونی کا قیام ہے۔انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مقبوضہ علاقے میں بھارت کے نوآبادیاتی منصوبے کو روکنے اور کشمیری عوام کے حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی مداخلت پر زور دیا۔