نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک ):کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہاہے کہ مجوزہ وقف ترمیمی بل پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے اسے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی شناخت پر ایک حملہ قراردیاہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے نئی دہلی میں ایک نیوز چینل کو انٹرویو میں کہاکہ وہ مجوزہ وقف ترمیمی بل کے بارے میں مختلف مذہبی شخصیات، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور سیاست دانوں سے ملاقات کے لیے بھارت میں ہیں ۔ انہوں نے بھارتی اراکین پارلیمنٹ پر بھی زور دیا کہ وہ مجوزہ متنازعہ قانون سازی کو منظور نہ کریں۔انہوں نے مودی حکومت کی طرف سے اگست2019میں دفعہ 370کی یکطرفہ اور غیر قانونی منسوخی کی مذمت کی ۔ انہوں نے کشمیری حریت رہنمائوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، مذہبی شخصیات اور سول سوسائٹی کے کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کی بھارت کی جیلوں میں مسلسل غیر قانونی نظربندی کی مذمت کی۔میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی سول سوسائٹی اور وکلا پرزوردیاکہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے آواز بلند کریں۔انہوں نے تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے بھارت ، پاکستان اور کشمیری قیادت کے درمیان جامع مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اورتنازعات کے حل کیلئے مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔مقبوضہ کشمیرمیں میڈیا پرعائد پابندیوں کے حوالے سے حریت رہنماء نے کشمیر ی صحافیوں کو درپیش چیلنجوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں میڈیا پر قدغن عائد ہے۔ حریت رہنمائوں اور صحافیوں کو آزادانہ طورپربات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور حریت رہنمائوں کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے پر بھارتی میڈیا پرکڑی تنقید کی۔انہوں نے کہاکہ بھارتی میڈیا کو ذمہ داری کامظاہرہ کرنا چاہیے اور بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار کو اجاگر کرنا چاہیے۔میر واعظ نے کہاکہ ہمارا پیغام واضح ہے: مسئلہ کشمیر کو صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔