اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):اسلام آباد میں منعقدہ قومی کشمیر کانفرنس کے مقررین نے بھارتی جارحیت کے شکار مظلوم کشمیریوں کو بین الا قوامی فوجداری عدالت اور عالمی عدالت انصاف کے ذریعے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ قومی کشمیر کانفرنس کے مقررین مین امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، سابق چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری ، نائب امیر لیاقت بلوچ ،سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید،سابق صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب خان ، سردار مسعود خان، سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق خان ، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان ، سابق امیر عبدالرشید ترابی ، سابق سفیر عبدالباسط،کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینیر غلام محمد صفی ،حریت رہنمائوں محمد فاروق رحمانی،محمود ساغر ،شمیم شال ،سیدفیض نقشبندی ، مولانا امتیاز صدیقی اوردیگر نے خطاب کیا ۔مقررین نے کہاکہ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے خطے کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اور کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے ۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کشمیریوں کو بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی اورمزاحمت کا حق حاصل ہے ۔ مقررین نے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کی منسوخی ، غیر کشمیریوںکو ڈومیسائل کے اجرا اور آبادی کے تناسب کو بگاڑنے سمیت بھارت کے غیر قانونی اقدامات پرسخت تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کشمیر کی سیاسی و سماجی قیادت کی غیر قانونی نظربندی ، صحافیوں اور سول سوسائٹی پر پابندیوں، تلاشی کی کارروائیوں کے دوران کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریوں،دوران حراست قتل، جائیدادوں کی ضبطی اور ظلم وجبر کے دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں کی مذمت کی۔مقررین نے بھارتی مظالم کے باوجود اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے پر کشمیری عوام کو خراج تحسین پیش کیاگیا۔ مقررین نے کشمیریوں کی تاریخ ساز جدوجہد میں انکی حمایت جاری رکھنے کے عزم کااعادہ کیا۔ مقررین نے حریت رہنمائوں مسرت عام بٹ، شبیر احمد شاہ ،محمد یاسین ملک ،عبدالحمید فیاض ، ڈاکٹر قاسم فکتو ، آسیہ اندرابی اور ان کی خواتین ساتھیوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جیلوں میں انہیں علاج معالجے اور مناسب خوراک سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جارہاہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ ، اسلامی تعاون تنظیم اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پرزوردیاکہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جنگی جرائم اور کشمیریوں کی نسل کشی رکوانے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ مسئلہ کشمیر دوملکوں کے درمیان سرحدوں کا تنازعہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی بھارتی تسلط سے آزادی کا مسئلہ ہے ۔ اقوام متحدہ نے کشمیری عوام سے انہیں انکا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا گیا ہے ۔ کانفرنس کے اعلامیہ مشاہدحسین سید کی سربراہی میں فرینڈ آف کشمیر فورم بنانے کی منظوری دی گئی۔ فورم بیرون ملک جاکر مسئلہ کشمیر کو اجاگرکرنے کے لیے لابنگ کرے گا۔