نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک)آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اورنے وقف ترمیمی بل کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیاہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی حکومت کی طرف سے لائے جانے والے وقف ترمیمی بل کی پہلے ہی بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان ”لوک سبھا ، راجیہ سبھا“ منطوری دے چکے ہیں۔صدر کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔اسد الدین اویسی جو پارلیمنٹ کے بھی رکن ہیں ، نے اپنی درخواست میں استدلال کیا ہے کہ وقف ترمیمی بل کی دفعات مسلمانوں کے بنیادی حقوق کے یکسر منافی ہیں۔محمد جاوید نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس بل کے ذریعے وقف املاک کو بلا جواز پابندیوں کا سامنا ہوگا اور اس سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ دیگر مذاہب کی املاک کو اس طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا نہیں ہے۔یاد رہے کہ کانگریس کے سینئر رہنما جئے رام رمیش نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی مذکورہ بل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے کے لیے جلد ہی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائی گی۔ انہوں نے”ایکس “ پر ایک پوسٹ میں کہا ” ہم بھارتی آئین میں موجود اصول وضوا بط، دفعات پر مودی حکومت کے تمام حملوں کی مزاحمت کرتے رہیں گے۔