اسلام آباد (نمائندہ خصوصی):برطانوی شہر لیسٹرمیں ہونےوالے فسادات نے ثابت کر دیا ہے کہ ہندوتوا انتہا پسندی بیرون ممالک بھی اپنے زہریلے پنجے گاڑرہی ہے۔ہندو توا والوں کی کھلی غنڈہ گردی ،، تشدد، مار دھاڑ پر برطانیہ نے اب تک کوئی ٹھوس ردعمل ظاہر نہی ںکیاہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق برطانیہ نے دنیا بھر میں انتہا پسندی کی مذمت کی لیکن بی جے پی-آر ایس ایس کی طرف سے پھیلانے جانے والے تشدد پر وہ خاموش ہے ۔ برطانیہ نے پہلے ہندو انتہا پسندو کو پناہ دی جنہوں نے بعد میں لیسٹر میں تباہی مچا دی۔ برطانیہ نے خطرے کو نظر انداز کیا۔لیسٹر فسادات ہندو توا جارحیت کا نمونہ تھا ۔ برطانیہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ انتہا پسندی پروان چڑھتی ہے تو جمہوریت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔بھارت دہشت گردی کا واویلا کرتے نہیںتھکتالیکن اس نے لیسٹر میںکھلی دہشت گردی کرائی ، کینیڈا میں آزادی پسند سکھ رہنما کا قتل بھارتی دہشت گردی کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے یہاں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کرا رہا ہے۔بی جے پی آرایس ایس جس طرح ملک میں اقلیتوں خاص طورپرمسلمانوں کونشانہ بنارہی ہیںاب وہ بیروں ممالک بھی مسلمانوں، سکھوںکو نشانہ بنارہی ہیں۔ لیسٹرمیں دوڈھائی برس قبل جوکچھ ہوا اورہند و تواغنڈوں نے جس وحشیانہ طریقے سے مسلمانوں کونشانہ بنایاوہ بی جے پی اور آرایس ایس کی نفرت انگیز پالیسیوں کاشاخسانہ ہے ۔ اگر برطانوی حکومت نے ہندو تواغنڈہ کو نظر اندازکیاتو مستقبل میں اسکے بھیانک نتائج نکلیں گے۔اس وقت ہندوتوا صرف بھارت کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکاہے۔ بیرون ممالک بی جے پی-آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کو برداشت کرنے کا مطلب ایک بڑی تباہی کو دعوت دینا ہے۔برطانوی پولیس کی ایک رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ برطانیہ میں موجود ہندوانتہا پسند مسلمانوں کے تئیں اپنی نفرٹ کی وجہ سے انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کے ساتھ اتحاد بنا رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسند برطانیہ میں تارکین وطن بھارتیوں کو یہ ہدایات بھی دے رہے ہیں کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں۔نیشنل پولیس چیفس کونسل (این پی سی سی) کی طرف سے مرتب کردہ خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسندی جسے ہندوتوا کہا جاتا ہے کی وجہ سے مسلمانوں، سکھوں اوردیگر مذہبی گروہوں کے ہندوﺅں کے ساتھ تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔