نئی دہلی:(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون میں ہندو انتہاپسند تنظیم ”کالی سینا ”کے ارکان نے مسلمان کرایہ داروں اوردکانداروں کو علاقے سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ واقعہ 4فروری کو اس وقت پیش آیا جب 50سے60 ہندو انتہاپسندوں کے ایک گروپ نے ایک میٹنگ میں لوگوں کومسلمانوں کے خلاف اکسایا اور اشتعال انگیز تقریریں کیں۔ انتہاپسندوں نے مقامی لوگوں سے علاقے میں رہنے والے یا کاروبار کرنے والے مسلمان کرایہ داروں پر حملہ کرنے اورانہیں بے دخل کرنے کی اپیل کی۔اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے خلاف مارچ کیا اور ان کی دکانوں کے سائن بورڈ اور بینرز توڑ ڈالے۔مقامی پولیس چوکی کے انچارج سب انسپکٹر سنجے راوت کی مدعیت میں درج کی گئی ایک ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ انتہاپسندوں نے مکان مالکان اور دکان مالکان کو مسلمان کرایہ داروں کو فورا ًبے دخل کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ اگر سات دنوں کے اندر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ انہیں زبردستی نکال دیں گے۔جس کے بعد میں لوئرتون والا میں ہفتہ وار بازار کو سناتنی بازار قراردیتے ہوئے مسلمان دکانداروں کو زبردستی باہر نکال دیاگیا۔ایف آئی آر کے مطابق انتہاپسندوں نے مسلمان دکانداروں کے ساتھ بدسلوکی کی ، ان پر حملہ کیااور انہیں خبردار کیا کہ وہ مستقبل میں دکانیں نہ لگائیں اور واپس آنے کی صورت میں انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی ۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں جس سے علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی۔ایف آئی آر میں بھوپیش جوشی اور ان کے ساتھیوں ویبھو پنوار، اجئے کیپٹن، آچاریہ وپل بنگوال ، ریٹائرڈ فوجی راجندر سنگھ نیگی اور دیگر کو نامزد کیاگیا ہے۔