پنسلونیا(مانیٹرنگ ڈیسک ):پاکستان توڑنے کی سازش کرنے والی بھارت کی تربیتی یافتہ دہشتگرد تنظیم مکتی باہنی کے ایک سابق کمانڈر زین العابدین کے چونکا دینے والے انکشافات نے 1971کی جنگ سے متعلق بیانیہ کو بالکل تبدیل کردیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مکتی باہنی کے 74سالہ سابق کمانڈر زین العابدین نے جو اب پنسلونیا امریکہ میں مقیم ہیں یوٹیوب چینل وائٹ نیوز بنگلہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ 1971کے اس افسوسناک واقعے نے ہمیشہ کیلئے جنوبی ایشیا کی تاریخ کا رخ بدل دیاتھا۔ کمانڈر نے اس تنازعہ پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایاکہ ہمیں اپنے ہی ملک اور اپنے ہی بھائیوں کے خلاف لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم کبھی نہیں سوچاتھا کہ ہمارے آبائو اجداد کی بے مثال قربانیوں اور جدوجہدکے بعد حاصل ہونیوالاملک ایک دن ہمیں آپس میں لڑتے ہوئے دیکھے گا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ مکتی باہنی کے ارکان کو بھارت میں تربیت دی گئی۔انہیں اور مکتی باہنی کے دیگر ارکان کو بھارت میں مسلح ٹریننگ دی گئی۔انہوں نے کہاکہ دہرادون اور ہافلانگ بھارت میں فوجی اورقیادت کے تربیتی مراکز قائم کئے گئے تھے ۔بنگلہ دیش کے موجودہ سیاسی منظر نامے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سے بے دخلی کے بعد فرار ہوکر بھارت میں قیام کے بارے میں بھی اہم انکشافات کئے ۔انہوں نے کہاکہ حسینہ بھارت میں آزاد نہیں ہے۔ وہ گھر میں نظر بند ہے اورحکومت کے کنٹرول میں ہے۔ بھارت اسے کبھی رہا نہیں کرے گا۔ اگر اسے رہا کر دیا جاتا ہے تو وہ سب کچھ ظاہر کر دے گی کہ کس طرح بھارت نے اسے بنگلہ دیش پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کیا اور کس طرح بھارت معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث تھا۔سابق کمانڈر نے انکشاف کیا کہ ایک مصنف کہ وہ تحریریوں کے ذریعے دنیا کے سامنے "بھارت کا بدصورت چہرہ” بے نقاب کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک دن ضرور بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں بھارت کو بنگلہ دیش پر غلبہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔ امریکہ کبھی بھارت کو بنگلہ دیش پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا، نہ پاکستان، چین یا روس اسے برداشت کریں گے ۔ بھارت کے عوام جانتے ہیں کہ مودی کا ہندوستان پاکستان یا بنگلہ دیش کے ساتھ جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جوہری معاہدے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاہدے طے ہوں گے ۔ پاکستان 1971میں ملک کو دوٹکرے کرنے کا جواب دے گا ، اگر آج پاکستان متحد ہوتا تو بھارت پہلے ہی تقسیم ہو چکا ہوتا۔ اگر بھارت بنگلہ دیش کے لیے مسائل پیدا کرتا رہا تو وہ تقسیم ہو جائے گا، انشا اللہ۔انہوں نے پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کے درمیان دشمنی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے دونوں ملک مشترکہ مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بنگالی پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات نہیں رکھتے ۔ ہم ایک ہی قوم ہیں اورہمارا مذہب بھی ایک ہے ۔ پاکستانی ہم بنگلہ دیشیوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے آبائو اجداد نے جو ملک بنایا تھا وہ متحد نہیں رہ سکا۔ اگر 1971 کا المناک واقعہ رونما نہ ہوتا تو ہم ایک مضبوط اور بہتر قوم بن سکتے تھے۔بھارت میں تربیت کے دوران اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے انکشاف کیا، "ہمیں میں تربیت دی گئی تھی۔ ہمارے ٹرینر آسام اور اتر پردیش سے تھے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے نام ظاہر نہیں کیے، لیکن ہم انہیں ابتدائی ناموں سے جانتے تھیجیسے ایس کے ، سی پی اور بی ایم ۔ ان میں سے ایک بمل مکھرجی تھا جس کا نام مجھے بنگلہ دیش بننے کے بعد معلوم ہوا۔انہوں نے بتایاکہ انہیں چھوٹے دستی بم بنانے، بم نصب کرنے اور پلوں اور عمارتوں کو تباہ کرنے کے علاوہ ایل ایم جی چلانے اور فوجی حکمت عملیوں سے متعلق تربیت دی گئی ۔مکتی باہنی کے سابق کمانڈر کہا کہ بھارت میں ایک نیا انقلاب برپا ہو گا، جس کے نتیجے میں نئی ریاستیں بنیں گی۔ ہم 98فیصد مسلمان ہیں جوبھارت سے لڑیں گے۔ بھارت تقسیم ہو جائے گا کیونکہ اس کا 48فیصدعلاقہ اس کاحصہ نہیں ہے۔ میزورام اورتریپورہ متحدہ پاکستان کے دور میں بنگلہ دیش کا حصہ تھے۔انہوں نے مزیدکہاکہ جموں وکشمیر اور خالصتان ضرو رآزاد ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی بہت سی ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنوبی ایشیا میں جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف دھمکیاں دے رہا ہے۔ پاکستان بھارت کو بنگلہ دیش کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں دے گا۔1995میں مصنفین کی کانفرنس کے لیے اپنے پاکستان کے دورے کو یاد کرتے ہوئے، زین العابدین نے ایک دل دہلا دینے والا تجربہ بیان کیا۔انہوں نے بتایاکہ وہ پاکستان میں جن لوگوں سے ملے انہوں نے انہیں گلے لگایااور اپنا بنگلہ دیشی بھائی قراردیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں مکتی باہنی کا رکن ہوں۔ انہوں نے کہا، ‘تو کیاہوا؟ تم ہمارے بھائی ہو۔ یہ پاکستانی مسلمانوں کا جذبہ ہے۔ ان لوگوں نے بنگلہ دیش کے خلاف نفرت کو ختم کر دیا ہے ۔انہوں نے واضح کیاکہ بت پرست ہندوستانیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے تمام لوگ ایک جیسے جذبات رکھتے ہیں۔