نئی دلی(نمائندہ خصوصی):بھارت نے اپنا جنگی جنون جاری رکھتے ہوئے مالی سال2025-26کے بجٹ میںدفاعی اخراجات میں9.5 فیصد اضافہ کردیاہے ، جس کے بعددفاع کا مجموعی بجٹ 78 ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کئے گئے بجٹ میں 2025-26مالی سال کیلئے 6.81 ٹریلین روپے کے دفاعی اخراجات کی تجویز پیش کی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.5فیصد زیادہ ہے۔ دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے سے علاقائی استحکام کے بارے میں بھارت کے سوچ سے متعلق اہم سوالات اٹھ گئے ہیں۔دفاعی بجٹ میں اضافے کے بعد بھارت کا دفاعی بجٹ 21کھرب 94 کروڑ تک پہنچ گیا ہے،جوکہ مجموعی بجٹ کا 13.44فیصدہے، جو تمام وزارتوں میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔بھارت نے اپنی بحری قوت بڑھانے کیلئے بجٹ میں بحری بیڑے کی توسیع کے لیے 249ارب روپے اورفضائیہ کیلئے486ارب روپے مختص کئے ہیں۔ تحقیق و ترقی کیلئے 14,923.82کروڑ مختص کئے گئے ہیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔ بھارت کے دفاعی بجٹ میں تیزی سے اضافہ سے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں اور خاص طور پر ہمالیہ اوربحر ہند اور بحرالکاہل میں سرحدوں پر چین کے اثرورسوخ پر بھارت کے خدشات کی عکاسی ہوتی ہے ۔ ماہرین دفاعی بجٹ میں اس اضافے کو ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جہاں بھارت کا اسٹریٹجک اثر ورسو خ کمزور ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے اور خطے میں اپنی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ان کارروائیوں میں سرحدپار دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرنابھی شامل ہے ۔ بھارت کی مذموم کارروائیوں کی وجہ سے خاص طورپر پاکستان کے ساتھ کشیدگی اورعدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ خطے کی صورتحال پہلے ہی غیر مستحکم ہے ۔تنازعات اور مسائل کو طویل المدتی سفارتی کاری کے ذریعے حل کرنے کی بجائے بھارت فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ کرکے چین اور پاکستان کو جارحانہ سوچ کا پیغام دے رہا ہے ۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی بجٹ میں تیزی سے اضافے سے خطے میں بالادستی کا خواب دیکھنے والے بھارت کی جارحانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھارت واقعی اپنے تزویراتی مفادات کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے تو اسے دفاعی بجٹ میں اضافے سمیت اپنے توسیع پسندانہ اقدامات کے وسیع تر نتائج پر غور کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ فوجی طاقت میں اضافے کی بجائے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کیلئے کام کرے ۔