نیو دہلی( نمائندہ خصوصی )مودی کے تیسرے دور اقتدار میں بھی بھارت کی اقلیتوں پر ظلم و ستم میں کوئی کمی نہیں آسکی ہےبھارت کے دیگر علاقوں کی طرح منی پور میں جاری فسادات اور پرتشد-د واقعات کے باعث سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیںحال ہی میں منی پور کے جیریبام ضلع میں پولیس کے ہاتھوں 10 کوکی عیسائیوں کی ہلا- کت کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا کوکی عیسا!ئیوں نے جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا کوکی زو کونسل نے دعوی ٰکیا کہ
ہمارے 10 ارکان کو سی آر پی ایف اہلکاروں نے جعلی پولیس مقابلے میں ہلا-ک کیا ان ہلاکتوں کے ردعمل کے طور پر قبائلی گروپ نے پورے منی پور میں گزشہ روز صبح 5 بجے سے شام 6 بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا جن افراد کو ہلا-ک کیا گیا وہ غیر مسسلح تھے جبکہ پولیس کی جانب سے ان کو حملہ آور ثابت کرنا جھوٹ ہے، قبائلی گروپدوسری جانب مقامی حکام کے مطابق پولیس سٹیشن کے احاطے میں قائم کوکی ریلیف کیمپ سے بھی 5 افراد لاپتہ ہو گئے ، لواحقین کے مطابق ان لاپتہ افراد کو دوران حراست
ہلاک کردیا گیا ہےمذکورہ بالا واقعات نے ریاست منی پور میں جاری فسادات اور پرتشدد واقعات کو مزید بڑھا دیا گیاقبائلی رہنما اس طرح کے مظالم کے بعد اپنے لئے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیںمودی سرکار کی پرتشدد پالیسیوں کے باعث منی پور میں جاری فسا!دات سے انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں