پاکستان ٹوٹنے سے کوئی سبق سیکھا گیا ھوتا تو مارشل لأ لگاۓ جاتے نہ مستند سیاستدانوں کو پچھاڑا جاتا نہ منتخب وزرا عظم پھانسیوں ، جلاوطنیوں اور جیلوں کا سامنا کرتے اور نہ ھی کٹھ پُتلی حکومتیں مسلط کی جاتیں ۔۔افسوس صد افسوس ! سیاسی ،عسکری اور عدالتی ارباب ِ اختیار کی اکثریت نے کوئ سبق نہیں سیکھا ۔۔۔
بار بار کے مارشل لأؤں ، بلوچستان میں زبردستی مسلط شدہ ناکارہ حکومتوں کے تسلسل ، ، مقامی وار لارڈز کی بدمعاشیوں ، مین سٹریم سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی ، بغیر کسی قانونی کاروائی کے اغوا کی وارداتوں ، ریاستی جبر ، اور غیر ملکی قوتوں کی مداخلت نے بلوچستان کی بلوچ بیلٹ کو آتش فشاں بنا دیا ھے !
پاکستان توڑنے کے اعلانیہ ایجنڈا پر گامزن ہتیار بند دھشت گرد جتھوں سے فرنٹ فٹ پر لڑنے کے سوا کوئ چارہ نہیں ، انکا قلع قمع پوری قوت سے متحد ھوکر کیا جاۓپاکستان کو بطور ریاست تسلیم کرنیوالوں اور اسے اپنا وطن نہ ماننے والوں میں فرق کیا جاۓدھشت گردوں ، علیحدگی پسندوں اور ریاستی جبر سے ناراض عناصر میں تمیز کی جاۓ
سیاسی انتقام اور کردار کشی کے پرانے ھتھکنڈے مزید کام نہیں آ سکتے مخالفانہ کڑوی کسیلی باتیں سنجیدگی اور غور سے سنی جائیں ،منطق اور دلیل سے جواب دیا جاۓ ،ھر مخالف کو ملک دشمن یا غدار قرار دینے کی بجاۓ الجھے ھوۓ مسائل کا حل نکالا جاۓ عالمی و علاقائی طاقتوں اور اندرونی دشمنوں کی سازش میں گھِرے ھوۓ بلوچستان کے زخموں پر مرھم رکھیں
پانی سر تک آچُکا ھے