11 مارچ 2025 کی صبح کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر عام دنوں جیسی گہما گہمی تھی۔ جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور کیلئے روانہ ہونے والی تھی۔ جعفر ایکسپریس نے سٹیمر بجایا اور آہستہ آہستہ پٹری پر سرکنے لگی۔ پہیوں کی کھڑکھڑاہٹ اور انجن کی گونج اسٹیشن پر کھڑے مسافروں کیلئے ایک عام منظر تھا، لیکن کئی کلومیٹر دور بولان کے سنگلاخ پہاڑوں میں کچھ سائے حرکت کر رہے تھے۔ یہ سائے خاموش نہیں تھے، ان کے ذہن میں ایک خونریز منصوبہ تھا، جس کی تیاری مہینوں سے جاری تھی۔ٹرین نے اپنے مقررہ راستے پر سفر جاری رکھا۔ دوپہر کا وقت ہو چکا تھا، اور جیسے ہی جعفر ایکسپریسبولان کے علاقے اوسی پور کے قریب پہنچی، اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ زمین لرز اٹھی، اور ٹرین ایک جھٹکے سے رک گئی۔پہلے تو کسی کو سمجھ نہ آیا کہ ہوا کیا ہے۔ دھماکے کی شدت سے کچھ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں، جبکہ دیگر بوگیاں جھٹکے سے رک گئی تھیں۔ مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور وہ چیخنے لگے۔ جیسے ہی دھوئیں کے بادل چھٹنے لگے، درجنوں مسلح دہشت گرد پہاڑوں کی اوٹ سے نکل کر ٹرین کی طرف بڑھنے لگے۔ ان کے چہرے نقاب سے ڈھکے ہوئے تھے، اور ان کے ہاتھوں میں جدید ہتھیار تھے۔ ان کے قدم مضبوط اور عزائم خوفناک تھے۔
’نیچے لیٹ جاؤ!‘کسی نے چیخ کر کہا، مگر دہشت گرد پہلے ہی ٹرین کے اندر گھس چکے تھے۔ انہوں نے مسافروں کو یرغمال بنانا شروع کر دیا۔ کچھ نے مزاحمت کی کوشش کی، مگر انہیں فوری طور پر نشانہ بنا دیا گیا۔ تقریباً 400 سے زائد مسافروں میں سے درجنوں کو دہشت گردوں نے قابو میں کر لیا، جبکہ باقی خوف سے دبک گئے۔ کچھ نے بچ نکلنے کی کوشش کی، مگر پہاڑوں میں گھات لگائے دشمن نے ان پر فائر کھول دیا۔یہ کوئی عام حملہ نہیں تھایہ ایک بڑے کھیل کا حصہ تھا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی‘‘را’’نے افغانستان میں بیٹھے اپنے آپریٹرز کے ذریعے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو استعمال کیا تھا۔ ان کا مقصد صرف تباہی نہیں تھا، بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔حملے کے چند منٹ بعد ہی بھارتی میڈیا نے واقعے کو بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا، جب کہ پاکستان کے عوام کوابھی تک اس واقعے کی مکمل اطلاع نہیں ملی تھی۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ حملہ ایک منظم عالمی سازش کا حصہ تھا، جس میں بھارت مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔
دوسری طرف پاک فوج اس بزدلانہ حملے کا جواب دینے اور مسافروں کی زندگیاں بچانے کیلئے پوری طرح تیار تھی، فیصلہ ہوا اور کارروائی کا آغاز ہوگیا۔ رات کا اندھیرا بڑھ چکا تھا۔ پہاڑوں میں چھپے دہشت گردوں کو لگ رہا تھا کہ وہ جیت چکے ہیں۔ مگر اچانک آسمان میں ایک ہلکی سی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔یہ پاکستانی ڈرونز تھےخاموش، مہلک اور ناقابلِ شکست۔ ڈرونز نے اپنے جدید سینسرز کے ذریعے دہشت گردوں کو نشانے پر لینا شروع کر دیا۔ ایک دہشت گرد جیسے ہی یرغمالیوں کی طرف بڑھا، ڈرون نے ایک فائر کیا اور دہشت گرد جہنم واصل، رات کے اس پہر تمام دہشت گرد ڈرون کے نشانے پر تھے جبکہ زمینی کارروائی کیلئےفوجی کمانڈوز اور ایف سی اہلکار بھی تیار تھے۔ یہ منظر دیکھ کر باقی دہشت گرد بوکھلا گئے۔ فرنٹیئر کور (FC)، اسپیشل سروسز گروپ (SSG)، اور ایئر فورس نے ایک زبردست حکمت عملی کے تحت گھیراتنگ کر دیا۔ٹارگٹ کنفرمڈ! ایک بھی دہشت گرد نہیں بچے گا!ایک کمانڈو نے وائرلیس پر رپورٹ دی۔گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ ایک ایک کر کے دہشت گرد مارے جا رہے تھے۔یہ آپریشن چند گھنٹوں کا نہیں تھا، بلکہ ایک پورے منصوبے کا جواب تھا۔ جب جنگ کا دھواں چھٹا، تو 33 دہشت گرد مارے جا چکے تھے۔ ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا تھا۔لیکن یہ کامیابی مفت میں نہیں ملی۔ 21 بے گناہ مسافر دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو ئے۔ پاک فوج کے 4 بہادر سپاہی بھی جام شہادت نوش کر گئےمگر سینکڑوں یرغمالیوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ۔
اب وقت آ چکا ہےکہ پاکستان بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں 90فیصد آپریشنز کو ڈرون ٹیکنالوجی پر منتقل کرے۔ دشمن زمینی حملوں میں ہار چکا ، مگر اس کا مکمل خاتمہ جدید حربوں سے ہی ممکن ہے۔یہ واقعہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور عوام کے تحفظ کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا کر، انہوں نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے عوام اور افواج متحد ہیں اور کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔