مارچ کا مہینہ جہاں قرارداد پاکستان کی خوشگوار یادیں تازہ کرتا ہے وہیں ” میرا جسم میری مرضی“کا پرچار کرنے والی خواتین کے ایک بار پھر سر ابھارنے کا اندیشہ لاحق ہوجاتا ہے۔خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس 1975کو میکسیکو میں ہوئی اور اس سال کو خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ اب ہر سال8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے،مگر پاکستان میں یہ وبا چند سالوں سے پروان چڑھ رہی ہے۔مشرق کی سادہ لوح عورت کب اور کیسے مغرب کے پھیلائے ہوئے شکنجے میں پھنس کر اپنے سکون اور حفاظت کو تباہ و برباد کرنے نکل کھڑی ہوئی پتہ ہی نہیں چلا، اس بات سے بے خبر کہ یہ ظاہری چمک دمک، دکھائے جانے والے سبز باغ تو درحقیقت شیطانی ہتھکنڈے ہیں اور شیطان دنیا کو خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے ،جب تک اس خوشنمائی کے پیچھے چھپی ویرانی، اور جلتے ہوئے قمقموں کے پیچھے دبی راکھ دکھائی نہیں دے گی تب تک اسی جال میں پھنسی رہیں گی جو امت مسلمہ کی خواتین کو اپنے مقصد سے ہٹانے کیلئے اغیار نے پھیلایا ہواہے۔۔آج مغرب ہمیں حقوق حاصل کرنے کا سبق پڑھا رہا ہے،خیرخواہ بن کر بھنور سے نکالنے کا درس دے رہا ہے آخر کیوں؟جبکہ قرآن کہتا ہے ”یہودونصاری کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے“ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے ۔”مومنوں کو چھوڑ کر منافقوں کو اپنا رفیق نہ بناو ¿ “ یہودونصاری جذباتی اقدام نہیں کرتے انکی منصوبہ بندی مسلمانوں کے خلاف کئی سالوں پر محیط ہوتی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ متحد مسلمان بڑی سے بڑی طاقت کی بنیادیں اکھیڑ سکتے ہیں،لاکھوں کی فوج کو دھول چٹانے اور تہس نہس کردینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، شرط صرف اتحاد اور ذات واحد پر کامل بھروسہ ہے،اس لیے ذوربازو کی بنیاد پر امت مسلمہ کا سامنا کرنا کسی کافر کے بس کی بات نہیں اس لیے غیر محسوس طریقے سے وہ ہماری جڑوں میں بیٹھ چکے ہیں اور ہمارے اتحاد کوپارہ پارہ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ ان کی پالیسیز، قرضوں کا بوجھ مہنگائی کی شرح کو اس قدر بڑھا چکا ہے کہ ایک مخصوص طبقہ خوراک کے حصول کی جدوجہد میں اسقدر ڈوبا ہوا ہے کہ اسے یاد ہی نہیں کہ وہ کس مقصدکیلئے روئے زمین پر بھیجا گیا ہے ہمارانوجوان طبقہ،ہماری اساس، ہمارا خون بیکراں، اقبال کا شاہین کالج ویونیورسٹیزمیں فروغ پانے والی غیر اسلامی و غیراخلاقی سرگرمیوں مثلا ڈانس، ہیلووین، ویلنٹائن ڈے، ہولی اور دیوالی جیسی خرافات میں مگن اپنی صلاحیتیں کھو رہا ہے ۔ہمارے بچے مستقبل کے معمارجنہیں وطن کی باگ دوڑ سنبھالنا تھی ان کے فضول گیمز اور ٹک ٹاک کے بھنور میں اس طرح دھنسا دیا ہے کہ وہ مرنے مارنے کو تو تیار ہیں مگر اس دلدل سے نکلنے کو نہیں،یہ زہر نشے کی طرح دشمن نے ہماری نئی نسل کے وجود میں اتار دیا ہے۔ اب رہ گئی تھی ہماری عورت جن سے خوف تھا کہ کہیں یہ صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم جیسے غیور اور دلیر سپوت پیدا نہ کر لیں تو ان کی ذہن سازی کرکے حقوق نسواں کے نام پر مرد سے چھٹکارا حاصل کرنے اور شادی نہ کرنے جیسے اسلام کے منافی رستے پر لگا کر امت مسلمہ کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کی کو ششیں کی جارہی ہیں۔آج کی ناسمجھ عورت صرف لفظ ”عورت“پر ہی غور کر لے تو بہت کچھ پالے گی،عورت یعنی چھپی ہوئی چیزاس لفظ میں جتنی وسعت ہے اتنی ہی عورت کیلئے رحمت اور شکر گزاری پنہاں ہے۔ذرا سوچئے چھپائی تو وہی چیز جاتی ہے جو بہت قیمتی ہو جس کی چوری ہوجانے کا ڈر ہو،جسکے میلے ہوجانے سے اس کی رعنائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہو،گردوغبار سے اٹ جانے کی فکر لاحق ہو ، عورت کو تو اسلام نے گوہر نایاب بنایا ایسا سچا موتی جو مضبوط سیپ میں محفوظ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں چھپا ہوتا ہے۔ زمانے کی گرد آلود نگاہیں ہمیں آلودہ نہ کردیں سو پردے میں رکھا گیا۔کوئی عصمت کو داغدارنہ کردے اس لیے غیر
مردوں کے سامنے آشکار ہونے سے منع فرمایا۔۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےساتھ سفر میں ازواج ہوتیں تو جب انکی ڈولی کو اٹھا کر اونٹ پہ رکھا جاتا تو نبی مہربان کہتے کہ سنبھل کے اندر آبگینے ہیں، کتنی عزت دی اسلام نے عورت کو مگر آج اسی پردے سے خائف عورت نہیں جانتی کہ مغرب کی بے پردہ اور بظاہر خود مختار نظر آنے والی عورت کن مسائل میں گرفتار ہے۔آنکھوں کو خیرہ کردینے والی کہکشاو ¿ں سے سجی مغرب کی بوسیدہ دیوار کے پیچھے چھپی تاریکی کو دیکھنا انتہائی ضروری ہے ورنہ اس سراب کے پیچھے عورت اپنا آپ نہ کھو دے۔ امریکہ میں 1930میں اور فرانس میں 1946 میں عورت کو ووٹ کا حق ملا۔
قانونی طور پر عورتوں کی حیثیت مردوں کے برابر ہونے کی ترمیم1970 میں پاس ہوئی۔ فرانس میں 1965میں عورت کو اپنا ذاتی بینک اکاو ¿نٹ رکھنے کا حق حاصل ہوا اور 1977 میں یہ حق قانونی طور پر ملا کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اپنی ڈاک وصول کر سکتی ہے۔مگر اسلام نے عورت کو بے شمار حقوق 1500سال پہلے دے دیئے مثلا تعلیم کا حق، نان نفقہ کا حق، وراثت کا حق، مہر کا حق،معاشی سرگرمی کا حق، شادی میں اجازت کا حق،ووٹ کا حق، خلع کا حق وغیرہ۔وہ عورت جسے دور جاہلیت میں زمین میں گاڑھ دیا جاتا تھا اسلام نے اسے جینے کا حق دیا، جسے وراثت میں تقسیم کر دیا جاتا تھا اس کووراثت کا حقدار بنا دیا، قبل اسلام جسے انسان کا درجہ بھی نہیں دیا جاتا تھا اسے اسلام نے اشرف المخلوقات بناکر ہر خاص وعام کے لیے قابل عزت بنا دیا۔حیرت ہے آج عورت دوسروں کے بہکاوے میں آکر انہی احکامات کی معترض ہے اور کونسی آزادی کی خواہاں ہے جسے اسلام نے آزادی کا پہلے ہی حقدار بنایا ہوا ہے۔۔۔قرآن میں جگہ جگہ اللہ تعالی نے مرد کو تنبیہ کرتے ہوئے عورت کے حقوق کو محفوظ کیا ۔سورہ النساءکی آیت 19 میں فرمان ہے” تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انکو تنگ کرکےاس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو”باوجود اس کے عورت کا اعتراض کہ وراثت میں حصہ آدھا کیوں ہے؟ اسلئے کہ یہ حصہ عورت کا اپنا ہے جس میں کوئی حصہ دار نہیں اور اسکو حصہ شوہر کی طرف سے بھی ملتا ہے اورباپ کی طرف سے بھی جبکہ مرد کا حصہ اسکا ذاتی نہیں بلکہ وہ اس کو اپنے بیوی بچوں،ماں باپ ، کنوارے بہن بھائی سب پر خرچ کرتا ہے، جبکہ عورت کسی پر خرچ کرنے کی مجاز نہیں یہاں تک کہ اگر وہ شوہر سے علیحدہ ہو تب بھی اس سے کچھ واپس لینے کا حکم نہیں چاہے اسے بہت سامال ہی کیوں نہ دے رکھا ہو۔4 شادیوں کی اجازت پر اعتراض جبکہ یہ اجازت محض مصلحت ہے اور اگلی آیت میں فرمان ہے”اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کی تم عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو“عورت کے حقوق پر سمجھوتہ کہیں نہیں کیا گیا۔ عورت کا اعتراض کہ مرد قوام ہے اسکا مطلب کوئی مالک یا آقا نہیں بلکہ وہ ایسا سربراہ ہے جو اپنا مال عورت پر خرچ کرتا ہے عورت کو اتنی توقیر کسی مذہب نے نہ دی کہ وہ ملکہ بن کر مرد کے گھر پر حکمرانی کرے اور مرد اسکی ہر ضرورت کا خیال رکھے، اس مرد کے ہوتے ہوئے کسی غیر مرد کی جرات نہیں کہ میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔۔جبکہ مغرب کی عورت نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ اسے متعدد مسائل کا سامنا ہے ،ایک سروے کے مطابق امریکہ میں ہر دو منٹ بعدایک عورت جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے۔15 سیکنڈ میں ایک عورت تشدد کا شکار ہوتی ہے۔یورپ میں 16 سے 45 سال کی خواتین میں موت اور معذوری کی بڑی وجہ تشدد ہے۔اسرائیل،امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیااور ساوتھ افریقہ میں 40فیصد سے 70فیصدخواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے دماغی معذوری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ2023 میں 85000 خواتین کو مردوں نے دانستہ طور پر ہراساں کیا۔
60فیصد خواتین کو ساتھی یا خاندان کے کسی فرد نے اپنا نشانہ بنایا۔سروے کے مطابق خواتین کے لیے سب سے خطرناک جگہ انکا اپنا گھر ہے۔اب خدارا اپنے گھروں پر نظر ڈالئے جہاں ہم آرام و سکون کی نیند سوتے ہیں جہاں مرد ہماری ڈھارس اور بچے اطمینان کا باعث ہیں۔تحریک آزادی نسواں کے نتیجے میں جو خامیاں معاشرے میں رائج ہیں ان پر نظر ڈالتے ہیں۔ مساوات کا غیر فطری تصور جس میں صنف نازک سخت اور گرم تھپیڑوں کا سامنا کر رہی ہے۔افراد کے درمیان تعلق نا پید،خود غرضانہ ذہنیت کی پرورش۔مرد و زن کے درمیان مستقل مقابلہ بازی، رشتوں کا احترام اور ایثار کے جذبات ختم ہوچکے ہیں۔مادی ترقی کی دوڑ زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔شادی کا تصور ختم،خاندان نظام تباہ، بچے ماں اور شوہر بیوی سے محروم اس کی حالیہ مثال امریکہ سے گھر بار چھوڑ کر آجائے والی انیجا اینڈرائے ہے۔جنسی بے راہ روی، نا جائز بچوں کی کثرت، سروے کے مطابق اس وقت فرانس میں ہر بچہ نا جائز ہے۔ طلاق کی کثرت، ساتھی بدلنے میں سرعت جسکی وجہ سے بچوں میں خود کشی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور ذہنی دباو کا شکار ہو رہے ہیں۔ٹرانسجینڈر کی وبا کے باعث ستمبر 2023 تک یورپ میں 35000 رجسٹرڈہیومن ڈوگز موجود ہیں۔معذور اور لاچار بوڑھوں کی بڑھتی تعداد جو سسک سسک کر زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔محرم عورتوں سے شادیوں اور زیادتی کی بد ترین مثالیں موجود ہیں، اسی موضوع پر 1960 میں امریکہ میں 80 فلمیں بنیں۔عصمت فروشی کا منظم کاروبار ہو رہا ہے۔بچوں کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ہمی گیر معاشرتی بگاڑ ہے جس کی روک تھام ممکن دکھائی نہیں دیتی۔دوسری جانب اسلام کا پیارا، متوازن اور خوبصورت نظام جہاں عورت محصنہ یعنی قلعوں میں محفوظ ہے ایسے ان دیکھے قلعے جن پر نقب لگانے یا انکو عبور کرنے کی کسی ذی روح کی جرآت نہیں۔جنکی اولادیں آنکھوں کی ٹھنڈک بنی والدین کے نرم حصار میں رہتی ہیں۔بڑھاپے میں والدین اپنی تمام تر عزت ،توقیر اور بڑے پن کے ساتھ اپنی اولادوں کے درمیان رہتے ہیں۔اب میرا سوال حقوق نسواں کی علمبردار مسلمان عورت سے ہے کہ اسلامی معاشرے کا حسین اور مغربی معاشرے کا اتنا بھیانک چہرہ دیکھنے کے بعد بھی کیا مسلمان عورت اس معاشرے کی تقلید کرنا چاہے گی؟ کیا اب بھی خوشنما باغوں سے نکل کر انگاروں میں جلنے کی خواہاں ہو سکتی ہے؟