لاہور( نمائندہ خصوصی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر و چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ جب عمران خان کے تمام حربے ناکام ہو گئے تو اب اس کو بچانے کے لئے نئی جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ آ گئی ہے ،اس میں کچھ چہرے پرانے اور کچھ نئے چہرے شامل ہو گئے ہیں ، آج پیچھے سے بیٹھ کرڈوریاں کون ہلا رہا ہے؟، ثاقب نثار جو ریٹائر ڈہو گیا ہے اس نے عمران خان کو لانے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے،پارلیمنٹ نے جو قانون بنایا ہے وہ قانون سپریم کورٹ کو مضبوط بناتا ہے ، سازشوں اور ون مین شو کو ختم کرتا ہے ، پارلیمنٹ نے جو قانون بنایا ہے اس پر آپ کو عملدرآمد کرنا پڑےگا،آپ کو پارلیمنٹ کا فیصلہ ماننا پڑے گا ،پارلیمنٹ اپنا فیصلہ منوا کر رہے گی ،آج قوم نظر رکھ کر بیٹھی ہے یہ کیا فیصلے کرتے ہیں،فیصلوں سے پہلے جس طرح کی نا موشی ہو رہی ہے اگر کوئی بھی عزت دار شخص ہوتا ہے جس پر اتنے سنگین الزامات لگے سنگین ثبوت سامنے آئے ہیں اگر ایسا کسی مہذب ملک میں ہوتا تو استعفیٰ دےکر گھر چلا جاتا تاہم یہ آج بھی وہیں کے وہیں بیٹھے ہیں،ا ن کو الیکشن کی جلدی نہیں ہے ،انہیں یہ فکر ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے الیکشن ہو جائیں ورنہ ہمیں الیکشن جتوانے والا کوئی نہیں ہوگا ،انتخابات اکتوبر میں ہی ہوں گے ، اس بار آرٹی ایس نہیں بیٹھے گا کیونکہ پرچہ آﺅٹ ہو چکا ہے ، میں اس حق میں ہوں کہ کسی کی ذاتی گفتگو ٹیپ کرنے کا کسی کو حق نہیں ، چیف جسٹس کی ساس صاحبہ اور خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ اپنی گفتگومیں گاجر کا حلوہ بنانے کی ترکیب ڈسکس کر رہی تھیں ؟، تین رکنی بنچ کاشہباز شریف سے کوئی معاملہ نہیں یہ اگلی تقرریاں روکنے کے لئے ہے ،سب ایک گروہ ہے یہ سمجھتا ہے ان کا بندہ نہ آیا ہے تو ان کی پوچھ گچھ شروع ہو جائے گی عمران خان سمیت سب احتساب سے بچنا چاہتے ہیں ،نواز شریف جلد ی ملک میں واپس آئے گا اور ترقی کا وہ سفر ،مزدور غریب کی سستی روٹی کا وہ سفر جو 2017ءمیں ٹوٹا تھا وہ 2023میں دوبارہ شروع ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ماڈل ٹاﺅن میں یوم مئی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید اور دیگر بھی موجود تھے۔