کراچی (آغاخالد)ملک کے پہلے ڈکٹیٹر ایوب خان نے آخری ایام میں اپنے معاشی پلان کو کامیاب بنانے کے لیے کراچی سے حیدرآباد کو ملانے اور فاصلے کم کرنے کے لیے ایک نئی سڑک کی تعمیر کا فیصلہ کیا اس سے پہلے کراچی سے حیدر آباد کا راستہ انڈس ہائی وے کہلاتا تھا جو خاصہ طویل اور گھوم پھر کر حیدرآباد سے کراچی پہنچ تا تھا اس کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک جاپانی کمپنی کو دیا گیا تاہم جب یہ خوب صورت سڑک جس کا نیا نام سپر ہائی وے تجویز کیا گیا کی تعمیر مکمل ہوئی تو پہلے منتخب وزیر اعظم ذالفقار علی بھٹو برسر اقتدار آچکے تھے یہ 1970 کی دہائی کا ذکر ہے اور ان دنوں ہرسو اس نئی سڑک کی دھوم تھی میں اپنے چچا جو نواب شاہ کے بڑے عالم دین تھے کے ساتھ صرف اس سڑک کو دیکھے کے شوق میں کراچی آیا اس نئے ہائی وے کی بڑی دھوم تھی کراچی اور حیدرآباد کا فاصلہ خاصہ کم ہونے اور شاندار سڑک کی تعمیر کو دیکھنے اور اس پر سفر کرنے کے خواہش مند لاکھوں میں ہوں گے کیونکہ سڑک کی تعمیر کرنے والے جاپانی انجنیرز کا چیلنج تھا کہ چائے کا لبا لب بھرا کپ لے کر بس میں بیٹھیں اور چلتی بس میں چائے پییں نہ چائے چھلکے گی نہ ہونٹوں کو جلائے گی اس سڑک پر مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کو بسیں بھی بڑی تعداد میں چل پڑی تھیں جو جگہ جگہ اسٹاپ کرتی تھیں جبکہ سب سے زیادہ مقبول ہائی ایس سائز اور ٹائپ کی ویگن کی سواری تھی جو حیدر آباد سے کراچی کے درمیان صرف ایک اسٹاپ کرتی تھی اور 2 گھنٹے میں پہنچا دیتی تھی اس ویگن کا حیدر آباد میں بڑا اڈہ تھا جس پر ایک ڈھابہ ٹائپ چائے کا ٹھیہ تھا اور وہ چائے شیشے کے چھوٹے گلاس میں اس شرط پر دی جاتی تھی کہ اسے چلتی ویگن میں پینا ہے وہ خالی کپ واپس پہنچانا ویگن والے کی ذمہ داری ہوتی تھی کرایہ
بس کے مقابلہ میں زیادہ ہونے کے باوجود یہ سواری بہت مقبول تھی ہم نے پہلی مرتبہ جب سفر کیا تو بہت مزہ آیا اور خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہورہی تھی کہ ایسی انہونی سڑک ہمارے ملک میں بھی موجود ہے اور ایک خواب کی مانند ہم اس پر سفر کرہے تھے اس موقع پر یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جاپانی کمپنی کے اس کارنامے کے 40/42 سال بعد 2013/14 میں نواز شریف نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں اس سڑک کو توسیع دیکر موٹر وے میں بدلنے کا فیصلہ کیا تو سابقہ تجربات کی روشنی میں بطور احتیاط کسی نئے اسکینڈل سے بچنے کے لیے اس کا ٹھیکہ سب سے بڑی ملکی کمپنی جس کی خاص شناخت ہے ایف ڈبلیو او کو دیدیا گیا کیونکہ ان کے گزشتہ ادوار میں بنائے گئے موٹر ویز کے ٹھیکے کورین کمپنیوں کو دیے گئے تھے جس پر ان کی حکومتیں گرانے کے بعد ان پر کک بیک کے بے سروپا ریفرنس دائر ہوے جو بدترین بد دیانتی پر مبنی تھے ایف ڈبلیو او نے اسے تعمیر کیا مگر آج اسے موٹروے کہتے ہوے بھی شرم آتی ہے رہی سہی کسر سندھ حکومت کی عصبیت پر مبنی پالیسیوں کی نذر ہوگئی ہوا کچھ یوں کہ وفاقی حکومت موٹرویز کی تعمیر کے بعد اسے صوبائی حکومتوں کے حوالے کردیتی ہے یہ منصوبہ جب 2019 میں مکمل ہوا تو وفاق میں خان صاحب کی حکومت تھی انہوں نے نفرت نواز میں اسے بے دلی سے سندھ حکومت کے سپرد کردیا جہاں پی پی کی حکومت تھی اس موٹر وے پر دیگر صوبوں کی طرح موٹروے پولیس کا قانون لاگو تھا لیکن وہ صرف ٹریفک قوانین پر عمل در آمد کی ذمہ دار ہوتی ہے یہاں تک کہ کسی جرم کی صورت میں موٹروے پولیس ملزم کو علاقہ پولیس کے حوالے کردیتی ہے جہاں جرم ہوا وہ علاقہ جس تھانہ کی حدود میں آئے گا موٹروے پولیس ملکی قوانین کے مطابق کیس اس کے حوالے کرنے کی پابند ہے جبکہ موٹر وے اسٹینڈرڈ کے مطابق سڑک کے دونوں اطراف خاردار تاریں لگائی جاتی ہیں تاکہ کوئی بھی انسان ،جانور، درندہ ،متعینہ راستوں سے ہٹ کر سڑک پر نہ آسکے اس طرح موٹروے کے دونوں اطراف ذیلی سڑکیں بنائی جاتی ہیں تاکہ علاقہ مکیں اسے آسانی سے استعمال کرسکیں پھر سواریوں کی آسانی کے لیے کئی جگہ بس اسٹاپ اور پٹرول پمپ بنائے جاتے ہیں مگر یہ سارے لوازمات ہماری موٹر وے کو جہیز میں نہیں مل سکے پھر ہوا کچھ یوں کہ
موٹر وے کی تعمیر کے ساتھ ہی اس کی حفاظت کے لیے جو تھوڑی بہت خار دار تاریں لگائی گئی تھیں وہ چوری ہونا شروع ہوگئیں اور اکثر مقامات پر علاقہ کے بااثر وڈیروں نے اپنے گائوں گوٹھوں کے سامنے خاردار تاریں کاٹ کر خود ساختہ راستے بنالیے اس پر نوری آباد کے قریب لقمان پالاری اور رمضان پالاری نے جب پہلا غیر قانونی راستہ بنایا تو موٹر وے کے عملے نے مزاحمت کی جس پر ان کی خوب دھنائی کی گئی اور چونکہ موٹروے پولیس کے عملہ کی اکثریت دوسرے صوبوں سے تھی اس لیے ان سے کہا گیا کہ کہ سندھ ہماری دھرتی ہے دوسرے صوبوں سے آکر ہمارے راستے بند کرتے ہو اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی کیونکہ سندھ حکومت نے بھی موٹروے پولیس کو تحفظ دینے سے آنکھیں چرائیں تو وہ بدظن ہوکر پیچھے ہٹ گیے اور یوں اگلے ایک آدھ برس میں موٹروے گیدڑ وے بن گئی اور آج اس کا کیا حال ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں دل کڑھتا ہے اسے دیکھ کر، اب سندھیوں کی نئی نسل جو عصبیت سے باہر نکل آئی ہے سوشل میڈیا پر پنجاب اور سندھ کے موٹر ویز کا موازنہ کرتی اور اپنی حکومتوں کو کوستی نظر آتی ہے آج ہماری موٹر وے پر کہیں بھی موٹروے پولیس یا اس کے قوانین نظر نہیں آتے اب تو ایک اور نیا کام شروع ہوگیاہے موٹروے پر سہراب گوٹھ سے نادرن بائی پاس تک دونوں اطراف کی ذیلی سڑکیں بند کرکے چہار دیواریاں کھڑی کردی گئی ہیں یا غیر قانونی بس اڈے بنادیے گئے ہیں اور سندھ حکومت سو رہی ہے۔۔۔ اللہ اکبر