اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کی ذیلی کمیٹی کا پہلا اجلاس 20 مارچ 2025 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت نوابزادہ افتخار احمد خان بابر نے کی، جب کہ اراکین میں احمد عتیق انور، آسیہ اسحاق صدیقی، اور محمد الیاس چوہدری شامل تھے۔ اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی چیئرپرسن محترمہ سینیٹر روبینہ خالد نے بھی خصوصی شرکت کی اور پالیسی امور پر کمیٹی کو آگاہ کیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد حاصل کرنے والی خواتین کو کمیشن مافیا اور ایجنٹوں کے استحصال سے بچانے کے لیے براہ راست بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی ادائیگی کی جائے گی۔ اس پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ابتدائی طور پر لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور، مظفرآباد، گلگت بلتستان، اور مظفرگڑھ کے اضلاع میں مستحق خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھولے جائیں گے۔چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے اس اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مالی شفافیت میں بہتری آئے گی اور خواتین کو بروقت اور مکمل رقم کی منتقلی یقینی بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ جون 2025 سے پہلے اس نظام کو فعال کیا جائے تاکہ غریب خواتین کو مالی استحصال سے بچایا جا سکے۔کمیٹی کے کنوینر نوابزادہ افتخار احمد خان بابر نے کہا کہ حکومت غریب اور مستحق خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ان اقدامات سے کرپشن اور استحصال کا خاتمہ ہوگا۔ اجلاس میں مزید تجاویز پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ اس منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنائیں۔