کراچی(نمائندہ خصوصی)زمینوں پر قبضے اور تجاوزات سے متعلق آباد کی شکایات پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سندھ کی تشکیل کردہ اسٹیرنگ کمیٹی کے ذریعے آباد کے ممبرز بلڈز اور ڈیولپرزکوریلیف ملنا شروع ہوگیا۔ پہلے مرحلے میں تجاوزات اور لینڈ گریبر مافیا کے خلاف آبادکی 22 کیسز میں سے14 کیسزکی مکمل انکوائری کے بعد2 کیسز میں اینٹی کرپشن کی انکوائریزکے احکام جاری کیے گئے۔5 کیسز حل کیے گئے۔بقایاکیسزکے لیے متعلقہ محکموں کوہدایات جاری کردی گئی ہیں۔،چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے بلاول بھٹو زرداری اور سندھ حکومت سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے اس اقدام سے کاروباری برادری کا اعتمادبحال ہواہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں تجاوزات اور لینڈگریبنگ مافیاکے خلاف مہم کومزید موثر بنایاجائے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے29 جنوری 2025 کو سندھ بھر کے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مرادی علی شاہ کوہدایت کی تھی کے کاروباری برادری کے مسائل حل کیے جائیں جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے لیننڈ گریبنگ اورتجاوزاتکے معاملات دیکھنے ک لیے صوبائی وزیرداخلہ ضیاالحسن لنجار کی سربراہی میں اسٹیرنگ کمیٹی تشکیل دی دی۔ اسٹیرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سندھ، چیئرمین اینٹی کرپشن،سینئر ممبرز بورڈ آف ریونیو سندھ،چیئرمین آباد محمد حسن بخشی،سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید سمیت کاٹی، کراچی چیمبر اور دیگر تاجر تنظیموں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اس موقع پر آباد کے سید افضل حمید نے اسٹیرنگ کمیٹی کو آبادممبران کی زمینوں پر تجاوزات اور زمینوں پر قبضوں سے متعلق بریفنگ دی جو ایسٹ،ویسٹ ملیر اورکمیاڑی کے اضلاع میں زمین/ پلاٹوں پر غیرقانونی قبضوں سے متعلق تھیں جس پر وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمشنرکراچی کی سربراہی میں ایک سب کمیٹی تشکیل دی تھی اورہدایت دی تھی کہ آبادکی شکایات کے ازالے سے متعلق دستایزی مسائل اور اقدام پر مشتمل جامع رپورٹ 15 روز میں اگلے اجلاس میں پیش کی جائے۔اسٹیرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں کمشنر کراچی نے آبادکی شکایات پر متعلقہ حکام سے تمامتر تحقیاقات اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد7شکایات کا ازالہ کردیا گیا جبکہ دیگر کیسز سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ اجلاس میں لینڈ گرینگ مافیا کی سہولت کاری پر وزیر داخلہ سندھ نے ایس ایچ او گلشن معمار کو معطل اور اینٹی انکروچمنت ریونیو ڈپارٹمنت پولیس ضلع ویست کا تبادلہ کرکے انکوائری کا حکم دیا ہے۔اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا کہ حالیہ ماضی میں دائر کیے گئے پرانے مقدمات کو فوری طور پر نمٹانا ممکن نہیں، تاہم اس سلسلے میں درپیش کچھ پیچیدگیوں کو ختم کر کے تمام پرانے کیسز حل کیے جا سکتے ہیں۔ مزید برآں، موجودہ وقت اور حالات میں، اگر زمین یا پلاٹس پر قبضہ کیا گیا ہے، تو ایسی صورت میں تمام قانونی اور ضروری دستاویزات کی تصدیق کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ان زمینوں اور پلاٹس کو قابض مافیا سے کلیئر کر دیا جائے گا۔چیئرمین آباد نے اس پیشرفت پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات کے خلاف جاری مہم کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بلڈرز اور ڈویلپرز کو درپیش مسائل کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لینڈ گریبنگ مافیا کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے اور شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو بلا رکاوٹ مکمل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔چیئرمین آباد نے امید ظاہر کی کہ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مہم کو مزید مستحکم کریں گے تاکہ کراچی سمیت پورے سندھ میں قانونی کاروبار کو فروغ ملے اور سرمایہ کاروں کا اعتمادبحال ہوسکے۔