اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)سینیٹر عون عباس بپی نے سینیٹ کے اجلاس میں اپنی غیر قانونی گرفتاری اور اس کے پس پردہ سیاسی انتقام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک بے بنیاد مقدمے میں نامزد کرکے اغوا کیا گیا۔ واضح رہے کہ ان کی گرفتاری کے بعد چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے گئے، جس کے بعد پولیس نے انہیں ایوان میں پیش کیا، جہاں پولیس نے انہیں سینیٹ کے سارجنٹ ایٹ آرمز کے حوالے کیا۔انہوں نے ایوان میں خطاب کے دوران بتایا کہ دو روز قبل صبح 8 بجے پولیس اور نامعلوم افراد نے ان کے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر گھسنے کے بعد ان کے ملازمین کو باندھ دیا، پھر ان کے کمرے کا دروازہ توڑا، جہاں وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ موجود تھے۔ انہیں گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر لایا گیا۔ ان کے 16 سالہ بیٹے کو بھی اس جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں، ان کے چہرے پر کالا کپڑا ڈال کر ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور رات کے اندھیرے میں ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔سینیٹر عون عباس بپی نے مجسٹریٹ سے دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں اور ان پر کون سا مقدمہ درج کیا گیا ہے؟ جس پر مجسٹریٹ نے بتایا کہ وہ یزمان میں ہیں اور ان پر پانچ چنکارہ ہرن مارنے کا الزام ہے۔سینیٹر عون عباس بپی نے ایوان میں اپنے خطاب کے دوران واضح کیا کہ انہیں اپنے قائد عمران خان سے وفاداری کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "میں نے پہلے بھی وفاداری نبھائی ہے اور آخری سانس تک نبھاتا رہوں گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ جیسے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جھوٹے مقدمات میں جیل میں ڈالا گیا، اسی طرح شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور عمر چیمہ سمیت دیگر رہنماؤں کو بھی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کے تمام بے گناہ قیدیوں کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔ "ہر وفاداری کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور میں اپنی وفا کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس راہ میں مجھے کتنی بار گرفتار کیا جاتا ہے یا کیا سزائیں دی جاتی ہیں۔ ظلم و جبر کے اس دور میں حق کی بات کرنا میرا فرض ہے۔”انہوں نے اپنی گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کیونکہ وہ جنوبی پنجاب میں مہنگائی کے خلاف پمفلٹ تقسیم کر رہے تھے، جو حکومت کو ناگوار گزرا۔ "یہ گرفتاری دراصل میری آواز دبانے کی کوشش ہے، مگر میں حق اور سچ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔”سینیٹر عون عباس بپی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا کہ جس طرح انہوں نے
اصولی موقف اپناتے ہوئے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ ہونے پر اجلاس کی صدارت سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میری حاضری دراصل آپ کے لیے پنجاب حکومت نے فیس سیونگ کے طور پر دی ہے تاکہ آپ ایوان کی دوبارہ صدارت سنبھال سکیں، لیکن اصل مسئلہ اس ایوان کے تقدس کا ہے۔”انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹر شبلی فراز اور سینیٹر علی ظفر کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "اگر وہ بروقت ایوان میں آواز بلند نہ کرتے تو شاید میں ماضی کی طرح گمنام ہی رہتا۔ میری گرفتاری کو ایوان میں آواز اٹھانے کے بعد ہی ظاہر کیا گیا۔”انہوں نے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سمیت تمام معزز سینیٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے حق میں آواز بلند کی اور ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔سینیٹر عون عباس بپی نے اعلان کیا کہ وہ سینیٹ اجلاس میں مزید شرکت نہیں کریں گے اور چیئرمین سینیٹ سے درخواست کریں گے کہ ان کے پروڈکشن آرڈرز منسوخ کیے جائیں تاکہ وہ واپس جیل جا کر عدالتی کارروائی کا سامنا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ "اگر سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو میں بھی جیل واپس جانا پسند کروں گا کیونکہ یہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے ایوان، اس کے وقار اور مقننہ کے تقدس کا ہے۔”