اسلام آباد:(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلمانوں کے خلاف انتقامی پالیسیوں پر عالمی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے ۔ بی جے پی کی یہ پالیسیاں 2002کے گجرات میں مسلم کش فسادات، مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے اور ان کے ساتھ نفرت انگیز امتیازی سلوک پر مبنی ہیںکشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بی جے پی کے دور حکومت میں گجرات میں مسلم کش فسادات بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک کی ایک واضح مثال ہے ۔ حکمران بی جے پی کے لیڈر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا بلوائیوں کو اشتعال دلا رہے ہیں اور غلط معلومات پھیلا کر مسلمانوں کی سلامتی کو خظرے میں ڈال رہے ہیں ۔2014میں مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعدسے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز امتیازی کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ مودی حکومت مذہبی تقسیم اور فرقہ واریت کو انتخابی فائد ے کے لیے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے ۔ہندو انتہا پسند گروپوں کے خوف سے بھارت بھر میں وکلاء مسلمانوں کے خلاف مقدمات میں انکی پیروی کرنے سے انکاری ہیں ۔مسلمانوں کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد ہے اور ریاستی اور قومی طرز حکمرانی میں ان کی آوازکو دبایا جارہاہے ۔ 2002کے گجرات فسادات نے ہندو مسلم تقسیم کو مزید گہرا کر دیاہے۔ بھارت میں مودی کو مسلمانوں، سکھوں اور مسیحیوں سمیت اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اوردیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے پر عالمی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ 2002کے گجرات فسادات کے دوران ہندو بلوائیوں نے جنہیں اس وقت کے وزیر اعیٰ نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کی مکمل حمایت حاصل تھی مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش ، انکا قتل عام کیااور مساجد اورمقدس مقامات کو تباہ کیا۔ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کوپناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہونے پر مجبور کیا گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فسادات کے دوران ایک ہزار سے افراد کو قتل کیاگیا جبکہ 223لاپتہ اور 2ہزار500زائد زخمی ہوئے۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارت میں ایک فسطائی جماعت کی حکمرانی ہے، جو انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے ۔