جنیوا:(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیاہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اعظم طارق نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 58ویں اجلاس کے اعلی سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن آف انکوائری کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی نگرانی جاری رکھے اور اپنی رپورٹس کو اپ ڈیٹ کرے۔ انہوں نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گفتگو کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطین، بالخصوص غزہ میں اسرائیل کے جاری مظالم کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے زبردستی بے دخلی اور آبادیاتی تبدیلی کو بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرے۔وفاقی وزیر نے اس موقع پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کی مضبوط قانون سازی اور پالیسی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دہائی میں 70 سے زائد انسانی حقوق سے متعلق قوانین منظور کئے گئے ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے عالمی سطح پر مذہبی عدم برداشت، بالخصوص اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ پاکستان ہر قسم کے امتیازی سلوک، دشمنی اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے