اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)غیر قانونی موبائل سم فروخت کنندگان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (سائبر کرائم ونگ) نے فعال بین الاقوامی سم کارڈز کی غیر قانونی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف ملک بھر میں مشترکہ چھاپے مارے۔یہ کارروائیاں ٹیلی کام فراڈ کے خاتمے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہیں۔چھاپے ایبٹ آباد، سکردو، پشاور، لاہور اور سیالکوٹ سمیت مختلف شہروں میں مارے گئے، جہاں ایسے افراد اور کاروباری اداروں کے خلاف کارروائی کی گئی جو بین الاقوامی سم کارڈز کی غیر قانونی فروخت اور ترسیل میں ملوث تھے۔ ان سم کارڈز کو دھوکہ دہی، غیر مصدقہ رابطوں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس دوران متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر فعال کیے گئے سم کارڈز برآمد کر لیے گئے۔پی ٹی اے اور ایف آئی اے غیر قانونی سم کارڈز کی خرید و فروخت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کے ذریعے نامعلوم و ناقابل سراغ رابطے ممکن ہو جاتے ہیں۔ ان سم کارڈز کا سائبر کرائم، مالی دھوکہ دہی، اغوا اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال سیکیورٹی اداروں کے لیے باعث
تشویش ہے۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک سم کارڈ کی فروخت کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ غیر مجاز سم کارڈز کی ترسیل اور فروخت کو روکنے کے لیے سخت ریگولیٹری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومت اور ٹیلی کام ریگولیٹرز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت مسلسل اقدامات کر رہے ہیں تاکہ موبائل نیٹ ورک سروسز کو قانونی دائرہ کار میں رکھا جا سکے اور انہیں جرائم پیشہ عناصر کے غلط استعمال سے محفوظ بنایا جا سکے۔