کوئٹہ۔ (نمائندہ خصوصی):وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہاہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہمارے بہادر سپوت خون کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، یہ وہ عظیم قربانیاں ہیں جن کی بدولت پاکستان عظیم بن کر سرخرو ہوگا ، دہشتگرد بلوچستان کے امن، ترقی و خوشحالی کے دشمن ہیں ،شر پسند عناصر کی بزدلانہ کاروائیاں بلوچستان کی ترقی کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں،بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن وامان پاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے لازمی شرط ہے ، آج سیاسی تفریق یاسیاست کا وقت نہیں ،قوم کو درپیش چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لئے اتحاد واتفاق وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار پیر کو کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت اور دیگر اہم صوبائی امور پر بریفنگ دی گئی ۔وزیراعظم شہبازشریف نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں کہاکہ قلات میں انتہائی اندوہناک واقعہ پیش آیا 18جوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور 23خوارج جہنم رسید ہوئے۔پاکستان میں دہشتگردی کی جولہر دوبارہ آئی ہے اس کے خاتمے کیلئے ہمارے بہادر سپوت خون کانذرانہ دے رہے ہیں ۔میں سمجھتاہوں کہ یہ وہ عظیم قربانیاں ہیں جن کی بدولت نہ صرف پاکستان عظیم بنے گابلکہ سرخرو ہوگا۔ وزیراعظم نے کہاکہ پوری قوم ان شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور ان شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے سی ایم ایچ میں قلات کے اندوہناک واقعہ میں زخمی جوانوں کی عیادت کی وہ انتہائی حوصلہ مند ہیں۔ ان جوانوں کاکہناتھاکہ ہمیں یہاں پر علاج ومعالجے کی بہترین سہولیات میسر ہیں اورانہیں کوئی ملال نہیں کہ اگر ان کے جسم کا کوئی حصہ ناکارہ ہواہے تو وہ اس قوم کی عظیم تر مقصد کے لئے ہے اگر انہیں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑتا تو یہ بڑی قیمت نہیں تھی ۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے قوی امید ہے کہ ایسے جوانوں ودلیر سپوتوں کے ہوتے ہوئے،سپہ سالار کی لیڈر شپ میں اور وزیراعلی بلوچستان کی سربراہی میں افواج پاکستان کے افسران اور جوان جس طرح فرائض کی ادا کررہے ہیں وہ پاکستان ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو امن کا گہوارہ بنائیں گے جو پاکستان کی ترقی وخوشحالی کے سفر کیلئے لازمی شرط ہے ۔وزیراعظم نے قوم کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آج سیاسی تفریق یاسیاست کا وقت نہیں ،ہم پھرسیاست کرلیں گے لیکن آج قوم کو جس بڑے چیلنج کاسامناہے اس کااتحاد واتفاق کے ساتھ مقابلہ کرناوقت کی ضرورت ہے۔ ملک میں امن ہو تو سیاست بھی ہوگی اور سیاسی میدان بھی سجیں گے ۔اس وقت ہمیں اپنی تمام توانائیاں پورے خلوص کے ساتھ دہشتگردوں کے مقابلے میں صرف کرنی ہیں ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ماضی کی بعض غلطیوں کی وجہ سے ہمارے بہادر نوجوان قوم کے سپوت کودوبارہ اپنا خون دیکران غلطیوں کاازالہ کرناپڑرہاہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ قوم ،سیاسی قیادت اورپاکستان کے 24کروڑ بھائیوں وبہنوں کی خدمت میں گوش گزار کرناچاہتاہوں کہ آج اتحاد واتفاق کی جتنی ضرورت ہے شاید78 سال میں نہیں تھی ۔ میں اپنے عظیم سپوتوں کے خاندانوں ،والدین اورمائوں کو خراج تحسین پیش کرناچاہتاہوں کہ انہوں نے اتنے دلیر ،جوان پیدا کئے جو اپنے خون کی قربانی سے پاکستان کیلئے نئی داستانیں رقم کررہے ہیں ۔انشا اللہ ہم مل کر فتح یاب ہوں گے اور پاکستان سرخرو ہوگا ۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان کے امن، ترقی و خوشحالی کے دشمن ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے لوگ خوشحال، نوجوان تعلیم یافتہ اور برسر روزگار ہوں۔بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ بلوچستان کی ترقی کا سفر جاری و ساری رہے گا۔بلوچستان میں صحت و تعلیم کی معیاری سہولیات، روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔حال ہی میں چین میں زرعی شعبے کی جدید تربیت کیلئے بھیجے جانے والے طلبا میں بلوچستان کے طلبا کا خصوصی کوٹہ رکھا گیا۔یوتھ پروگرام، وزیرِ اعظم لیپ ٹاپ سکیم کے ذریعے بلوچستان کے طلبا کو با اختیار بنایا جا رہا ہے ۔بلوچستان میں زراعت کی ترقی کیلئے زرعی ٹیوب ویلز کی سولرآئیزیشن کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ کے فضل و کرم سے سی پیک کی تکمیل پر کام تیزی سے جاری ہے گوادر ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت شروع ہو چکی ہے۔ گوادر بندرگاہ وسطی ایشیا و جنوب مشرقی ایشیا اور باقی دنیا کے مابین پاکستان کو ایک اہم رابطہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔عسکری قیادت، سپاہ سالار اور افواج پاکستان حکومت کے ساتھ مل کر پر امن بلوچستان کیلئے دن رات کوشاں ہے۔ مجھ سمیت پوری قوم بلوچستان کے امن کے لئے کوشاں سکیورٹی فورسز، پولیس اور ضلعی انتظامیہ و دیگر اداروں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔اجلاس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ،وفاقی وزیرِ بجلی اویس لغاری، رکن قومی اسمبلی جمال کاکڑ، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیرِ اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر محمد سلیم کھوسہ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔